ایران سے ڈیل یا تصادم؟ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو لاعلم رکھنے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے متعلق اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو آگاہ نہیں کرتا۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے اور کوشش ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ایران مذاکرات کرے، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ آگے کیا ممکن ہے، اور اگر بات نہ بنی تو پھر حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیںٹرمپ نے ایران کو ’ڈیڈ لائن‘ دیدی؛ امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات میں لنگرانداز
ٹرمپ کا ایران کو خبردار کرنے والا پیغام، تہران نے مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کر دی
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر فوجی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
حالیہ مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور فیصلے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کے ساتھ شیئر نہیں کیے جاتے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کسی معاہدے کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں، تاہم ڈیڈ لائن کے بارے میں صرف وہی جانتے ہیں کہ کوئی حتمی وقت مقرر ہے یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔