سابق کپتان راشد لطیف نے عثمان طارق کی تصویر کے ساتھ غیر قانونی بولنگ کا قانون کیوں یاد دلایا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
پاکستان کے سابق کپتان اور کرکٹ تجزیہ کار راشد لطیف نے بتایا کہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر بولرز کے بولنگ ایکشن میں کچھ حد تک کہنی کی سیدھ (Elbow Extension) پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایکشن اکثر ایمپائرز کے مطابق قانونی سمجھا جاتا ہے، قوانین کے مطابق یہ ہر بار 24(3) کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کہنی کی حرکت 15 ڈگری سے زیادہ ہو جائے تو یہ آنکھوں سے دیکھنے میں تھرو لگنے جیسا نظر آتا ہے۔
اس بنیاد پر، آئی سی سی نے قوانین میں ترمیم کی ہے اور بولرز کے لیے کہنی کی زیادہ سے زیادہ حرکت کی حد 15 ڈگری مقرر کی ہے۔ آئی سی سی کے مطابق، غیر قانونی بولنگ ایکشن وہ ہے جہاں بولر کا Elbow Extension 15 ڈگری سے زیادہ ہو، جو اس وقت ماپا جاتا ہے جب بولنگ بازو افقی پوزیشن میں پہنچے اور گیند ریلیز ہو۔
کسی بھی Elbow Hyperextension کو اس پیمائش میں شامل نہیں کیا جاتا۔
Scientific research revealed that almost all bowling actions contained some degree of straightening at the elbow (referred to in these Illegal Bowling Regulations as “Elbow Extension”).
considered by umpires to be… pic.twitter.com/Yq5dmsFKM9
— Rashid Latif | ???????? (@iRashidLatif68) February 1, 2026
راشد لطیف نے ایکس پوسٹ پر دائیں بازو سے آف بریک کرنے والے پاکستانی بولر عثمان طارق کا بولنگ کلپ شیئر کرتے ہوئے غیر قانونی بولنگ ایکشن کی مزید وضاحت بھی کی کہ اگر کسی کھلاڑی کی شکایت میچ کے دوران سامنے آئے تو آئی سی سی کی Suspect Bowling Action پالیسی کے تحت اس کی خود مختار جانچ 72 گھنٹوں کے اندر مکمل کی جائے گی۔ بولنگ کے دوران کہنی کے بغیر حرکت دینا قانونی ہے اور آئی سی سی کے قوانین کے تحت میچز میں اس کی پابندی لازمی ہے۔
مزید پڑھیں: عثمان طارق کی زمبابوے کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق کہنی کی حرکت 15 ڈگری سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ غیر قانونی بولنگ ایکشن کی جانچ رپورٹ وصول ہونے کے 72 گھنٹوں کے اندر مکمل کی جاتی ہے۔ بولنگ کے دوران کہنی کے بغیر گیند ڈالنا قانونی ہے۔ غیر قانونی بولنگ کی شناخت کے لیے آئی سی سی نے مخصوص طریقہ کار مرتب کیا ہے۔ یہ قواعد کرکٹ میں بولنگ اور تھرو کے درمیان واضح فرق قائم رکھنے کے لیے ہیں۔
واضح رہے کہ پاک آسٹریلیا ٹی20 سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا کے آل راؤنڈر کیمرون گرین نے پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے ایکشن پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ سیریز کا دوسرا ٹی20 میچ لاہور میں کھیلا گیا، جس میں عثمان طارق نے کیمرون گرین کو آؤٹ کیا، جس کے بعد گرین ناخوش نظر آئے اور پویلین لوٹتے ہوئے ہاتھ گھما کر چَکنگ کا اشارہ (جیسے وہ گیند تھرو کر رہے ہوں) کیا کہ عثمان کا بولنگ ایکشن مشکوک ہے۔
اسپنر عثمان طارق کون ہیں؟پاکستان کے لیجنڈ آل راؤنڈر وسیم اکرم، عثمان طارق کو آئندہ ٹی20 ورلڈ کپ میں میچ ونر کھلاڑی مانتے ہیں۔ وسیم اکرم نے حال ہی میں کہا تھا کہ عثمان ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے میچ ونر ثابت ہو سکتے ہیں۔ عثمان پہلی بار پاکستان کی جانب سے ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں۔ اکرم کے مطابق یہ گیند باز اس ورلڈ کپ میں سرپرائز پیکج ثابت ہوگا۔
وسیم اکرم نے عثمان طارق کا موازنہ سری لنکا کے سابق مسٹری اسپنر اجنتا مینڈس سے بھی کیا ہے کہ جس طرح اجنتا مینڈس نے 2008 میں اپنی مسٹری بولنگ سے بلے بازوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا تھا، اسی طرح عثمان بھی ورلڈ کپ میں دیگر ٹیموں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
عثمان طارق کی پیدائش یکم جنوری 1998 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے 2025 میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا اور پہلے ہی میچ میں 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ عثمان اپنے ٹی20 انٹرنیشنل کیریئر میں ہیٹ ٹرک بھی کر چکے ہیں، جو انہوں نے نومبر 2025 میں زمبابوے کے خلاف کی تھی۔
مزید پڑھیں: شاہ رخ خان کا پاکستانی اسٹارز پر اعتماد ، محمد عامر اور عثمان طارق کو سی پی ایل اسکواڈ میں شامل کرلیا
عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر پہلے بھی اعتراض کیا گیا تھا تاہم وہ ٹیسٹ کے بعد کلیئر قرار پائے تھے۔ پی ایس ایل 10 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے عثمان طارق کا بولنگ ایکشن لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں آن فیلڈ ایمپائر احسن رضا اور کرس براؤن کی جانب سے رپورٹ کیا گیا تھا۔
ایک انٹرویو میں اپنے بولنگ ایکشن کا دفاع کرتے ہوئے عثمان طارق نے کہا تھا کہ ان کا ایکشن 15 ڈگری کی مقررہ حد کے اندر ہے، تاہم کہنی پر موجود 2 مخصوص زاویوں کی وجہ سے بازو مکمل طور پر سیدھا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2 سرکاری ٹیسٹ کروا چکے ہیں، جن میں دونوں بار ان کا ایکشن کلیئر قرار دیا گیا۔ انہیں شروع سے ہی یقین تھا کہ وہ گیند تھرو نہیں کرتے۔ انہوں نے ناقدین کو مشورہ دیا تھا کہ کرکٹ پر تنقید سے پہلے کھیل کو سمجھنا ضروری ہے۔
بھارتی میڈیا نے وسیم اکرم کی پیشگوئی اور کیمرون گرین کے اشارے کو لیکر پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے کہ آسٹریلیا بورڈ عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کے خلاف آئی سی سی میں شکایت درج کرانے والا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل راؤنڈر کیمرون گرین اجنتا مینڈس پاک آسٹریلیا ٹی20 سیریز راشد لطیف عثمان طارق غیر قانونی بولنگ ایکشن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز لیجنڈ آل راؤنڈر وسیم اکرم،
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آل راؤنڈر کیمرون گرین اجنتا مینڈس پاک ا سٹریلیا ٹی20 سیریز راشد لطیف غیر قانونی بولنگ ایکشن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز لیجنڈ آل راؤنڈر وسیم اکرم غیر قانونی بولنگ ایکشن کیمرون گرین ورلڈ کپ میں وسیم اکرم راشد لطیف سے زیادہ کے مطابق انہوں نے کہنی کی کے خلاف تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن