ڈمپر مافیا سے سانحہ گل پلازہ تک کا سفر افسوسناک ہے‘حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ کراچی ایک بار پھر حکمرانوں کی غفلت، نااہلی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ سانحہ گل پلازہ نے شہر کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معصوم جانوں کا ضیاع، جل کر راکھ ہو جانے والے خواب اور وہ افراد جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، سندھ حکومت کی مجرمانہ بے حسی پر سوالیہ نشان ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ملین مارچ بعنوان’’کراچی کو جینے دو‘‘ کے حوالے سے اپنے بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ آئے دن ڈمپر مافیا کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، کھلے مین ہولز اور گٹروں میں گر کر معصوم بچوں کی ہلاکتیں، خستہ حال سڑکیں، کچرے کے انبار، پانی و بجلی کی قلت، ٹرانسپورٹ کا بحران اور بدترین شہری نظام اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کراچی کو جینے کے قابل شہر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر اسے دانستہ طور پر وڈیروں، جاگیرداروں اور نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب مزید خاموشی جرم ہے۔کراچی اپنے حقوق کے لیے بیدار ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں آج ہونے والا ‘‘جینے دو کراچی مارچ‘‘ محض احتجاج نہیں بلکہ کراچی کے حق حیات، حق تحفظ اور حق وقار کی منظم عوامی جدوجہد ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کے تمام کارکنان، خواتین، نوجوانوں اور کراچی کے باشعور عوام سے پْرزور اپیل کی کہ وہ اس تاریخی ملین مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کریں، اپنے گھروں سے نکلیں اور نااہل حکمرانوں کے خلاف بھرپور عوامی دباؤ ڈالیں تاکہ کراچی کو مسائل سے نجات دلائی جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور باوقار شہر کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر کراچی کے عوام کی آواز بنے گی اور ان شاء اللہ اس شہر کو وڈیروں اور کرپٹ حکمرانوں کے چنگل سے آزاد کرا کر رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کہ کراچی انہوں نے کراچی کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔