امریکہ سے جنگ ارادے کی جنگ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: آج بھی جوشیلے انقلابی نوجوانوں کی تعداد اس زمانے کے مقابلے میں جب اسلامی انقلاب فتح سے ہمکنار ہوا تھا، کم نہیں ہے، بلکہ آج کے نوجوانوں کی انقلابی فکر کی گہرائی زیادہ ہے۔ یہ صورت حال ہے۔ اس کے نمونے آپ ملک میں پیش آنے والے گوناگوں واقعات میں دیکھ سکتے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 14 مئی 2019ء میں انقلابی رستے کے پیروکاروں کو بتا دیا تھا کہ مستقبل میں کیا صورت حال پیش آسکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی یے کہ ارادوں کی اس جنگ میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بتائے گئے اصولوں کو مشعل راہ بنایا جائے اور طاغوتی طاقتوں سے پنجہ آزمائی کے لئے اپنے آپ کو میدان مبارزہ میں اترنے کے لئے کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیئے۔ خوف پر قابو پانے کے لئے خوف کے سمندر میں اترنا ضروری ہے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں پر مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں۔ کوئی ایران کی امریکہ مخالف پالیسیوں کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں، کوئی ایٹمی ٹیکنالوجی کو اور کوئی میزائل کی بڑھتی ہوئی رینج کو۔ ایران کے سلامتی اور سکیورٹی زون میں امریکہ کی وسیع جنگی مہم کی ایک وجہ امریکی رہنماؤں کی طرف سے ایرانی طاقت کا غلط تصور بھی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں بارہا ایران کو ایک "کمزور" ملک کے طور پر بیان کیا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض اوقات واضح اور بعض دفعہ اشاروں میں اپنے آپ کو ایران کے کمزور ہونے کی وجہ کے طور پر بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ تاثر بہت خطرناک ہے، کیونکہ یہ ٹرمپ کو ایران پر محدود حملہ کرنے یا یہاں تک کہ ایک وسیع حملہ کرنے اور حتمی دھچکا پہنچانے کے لیے اکسا سکتا ہے۔ اسی بنا پر رہبر معظم انقلاب نے چند ماہ قبل دشمن کے اندازوں اور حساب کتاب کو بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ایران کی طاقت کے اظہار کو بھی قابل توجہ نکتہ کہا ہے۔
کسی موثر کھلاڑی کی طاقت کا اندازہ متعدد عوامل پر مبنی ہوتا ہے، لیکن بعض امریکی حکام، مغربی ذرائع ابلاغ، بکے ہوئے تجزیہ کار اور بعض مشہور شخصیات نے حالیہ فسادات جیسے واقعات کے رونما ہونے کو ایران کی کمزوری سے تعبیر کیا ہے۔البتہ یہ تجزیہ دشمن کے حساب کتاب میں غلطی پیدا کرنے میں کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ ایران کو کمزور دکھانے میں بعض داخلی قوتوں کا بھی ہاتھ ہے، جسے برملا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کمزور پر ہر کوئی چڑھ دوڑنے کو ہر وقت تیار ہو جاتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کی خصوصی توجہ اور تاکید پر ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا چلا آرہا ہے اور 8 سالہ مسلط کردہ صدامی جنگ کے بعد کے برسوں میں ایران نے اپنی اسٹریٹجک کمزوریوں پر قابو پایا ہے، خاص طور پر 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد تو بڑی تیزی سے اپنی دفاعی اور حملہ کرنے کی توانائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ کسی ملک کی طاقت کا اندازہ لگانے میں، اگرچہ اقتصادی عنصر بہت اہم ہوتا ہے، لیکن کسی ملک کی قومی طاقت کو صرف معاشی خرابیوں کی بنیاد پر کمزور نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگی حالات میں، معاشرے کی ترجیحات کا نظام معاشی اجزاء سے بقاء اور سلامتی کے اجزاء میں بدل جاتا ہے۔ کمزور معیشت والے ممالک بھی اپنا سب کچھ دفاع پر صرف کر دیتے ہیں اور متحارب فریق پر کڑی ضرب لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں واحد چیز جو ایران سے جنگ کے خطرے کو دور کرسکتی ہے وہ ایران کی شبیہ کی تعمیر نو اور ایک طاقتور ایران کی تصویر کشی ہے۔ ایک ایسا ایران جو اپنی ملکی صلاحیتوں پر بھروسہ کرکے دشمن کو کاری ضربیں پہنچا سکتا ہے۔ جس کو نہ چین کی ضرورت ہو نہ روس کی۔ جو نہ سعودی عرب کی ثالثی کا محتاج ہو، نہ ترکیہ کی۔ موجودہ حالات میں دشمن کے ساتھ کسی بھی ممکنہ بالواسطہ یا بالواسطہ مذاکرات کا ایجنڈا صرف ایک طاقتور، پرعزم اور غیر متوقع تصویر پیش کرنے پر مرکوز ہونا چاہیئے۔ جس میں طاقت اور وحدت کا اہتمام اس شان و شوکت سے ہونا چاہیئے کہ امریکہ اپنی جنگی مشینری کو خطے سے باہر نکالنے پر مجبور ہو جائے۔
انقلاب اسلامی سے قلبی وابستگی رکھنے والوں کو بھی بھرپور ردعمل دینا چاہیئے نہ کہ اس بات کا انتظار کیا جائے کہ اگر ایسا ہوا تو ہم یہ کریں گے۔ نوش دارو بعد از مرگ سہراب۔ جنگ کے سائے میں داخلی متنازعہ معاملات پر مذاکرات، جنگ کے امکانات کو بڑھانے کے علاوہ کوئی نتیجہ سامنے نہیں لا سکتے اور اگر ان معاملات پر مذاکرات ہونے بھی ہیں تو یہ مذاکرات اس وقت تک ملتوی کیے جائیں، جب تک کہ حالات معمول پر نہیں آجاتے اور ایران کے خلاف امریکہ کی جارحانہ گفتگو ختم نہیں ہو جاتی ہے۔ رہبر انقلاب نے کئی برس پہلے اسی موضوع پر گفتگو کی تھی، لیکن آج بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے، جیسے آج کی تاریخ یعنی 31 جنوری 2026ء کے دن انقلاب دوست قوتوں سے مخاطب ہوں۔ آپ نے فرمایا تھا کہ ہمارے دشمنوں نے اور ان میں سرفہرست امریکہ نے اس امید پر کہ اقتصاد کے راستے سے اسلامی جمہوریہ پر ضرب لگا سکتے ہیں، پابندیوں کو سخت کر دیا۔ بقول خویش ایسی پابندیاں لگائیں، جن کی ماضی میں مثال نہیں ہے۔
وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے اسلامی جمہوریہ پر جو پابندیاں عائد کی ہیں، ان کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی جمہوریہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے۔ بعض عالمی مبصرین یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر یہ پابندیاں اور یہ دباؤ کسی اور ملک کے خلاف استعمال کیا گيا ہوتا تو اس پر بڑا گہرا اثر پڑتا، لیکن اسلامی جمہوریہ نے عوام پر تکیہ کرکے، توفیق خداوندی سے، ملک کے گوشہ و کنار میں مصروف خدمت عہدیداران کی بلندی ہمتی کی وجہ سے خود کو کافی مستحکم بنا رکھا ہے، ورنہ یہ حقیقت ہے کہ بڑا سخت دباؤ پڑ رہا ہے۔ وہ اپنا کام کر گزرے ہیں۔ دشمن نے اپنی پوری کوشش کر لی ہے، وہ اپنا کام کر گزرے ہیں، امریکہ نے اپنی خباثت اور بدطینتی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ عہدیداران کو جھک جانے پر مجبور کر دیں، ان کے اندازوں اور تخمینوں میں ایسی تبدیلی لائیں، جو انھیں سر جھکا دینے پر مجبور کر دے۔ یعنی امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائيں۔ دشمن کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو اسلامی نظام کے مدمقابل کھڑا کر دیں۔ دشمن کا ہدف یہ ہے۔
یہ اندازے پوری طرح غلط ہیں۔ یعنی امریکہ کے اندازے پوری طرح غلط ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران، ان چالیس برسوں میں بھی امریکی اسی طرح اندازے کی غلطی کرتے آئے ہیں، چنانچہ وہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں کرسکے، انھیں نقصان اٹھانا پڑا، وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر وہ ضرب نہیں لگا سکے، جیسی وہ چاہتے تھے۔ آج بھی یہی صورت حال ہے۔ اس دفعہ بھی شکست ہی ان کا مقدر بنے گی۔ اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں۔ تاہم اسلامی جمہوریہ کے خلاف جو بغض و کینہ ان کے دلوں میں ہے، اس نے انھیں اندھا کر دیا ہے۔ یعنی ان کے تمام تخمینوں کو خراب کر دیا ہے، اب وہ صحیح اندازے نہیں لگا سکتے۔ ان کے اس بغض و کینے نے واقعی انھیں اندھا بنا دیا ہے۔ ورنہ خود امریکہ کے اندر بہت سے افراد ہیں، جو ایران کے سلسلے میں، مسلمان تنظیموں کے سلسلے میں، مزاحمتی تنظیموں کے سلسلے میں اختیار کئے جانے والے خبیثانہ اور وحشیانہ طرز عمل سے اتفاق نہیں رکھتے، لیکن ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔
ہم ان کے مقالے اور ان کے بیان پڑھتے ہیں، ان کے اقدامات کو دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا، امریکہ کے موجودہ حکمرانوں میں واقعی شعور نہیں ہے، وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ میں یہیں یہ بھی عرض کر دوں کہ کسی کو بھی امریکہ کی ظاہری ہیبت سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کسی کو بھی۔ یعنی یہ واقعی بہت بڑی غلطی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کچھ لوگ اس ظاہری ہیبت سے، رجز خوانی اور شور شرابے سے ہراساں ہو جاتے ہیں، وحشت زدہ ہو جاتے ہیں۔ اس ظاہری ہیبت سے ڈرنا غلط ہے۔ بڑی طاقتیں اسی طرح اپنا کام نکال لیتی ہیں۔ شور شرابا کرکے۔ حالانکہ وہ جتنا ہنگامہ کرتی ہیں، ان کی توانائی اتنی نہیں ہے۔ بہت کمتر ہے۔ لیکن پھر بھی وہ دھونس جماتے رہتے ہیں، شور شرابا کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں۔
کبھی کسی کو اور کبھی کسی کو ہراساں کرتے ہیں۔ کسی کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ تو ان سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ خلیج فارس کے "قارونوں" سے، یا ان قارونوں سے جو ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اب تک مختلف شعبوں میں انھوں نے ہمارے خلاف اربوں خرچ کئے اور کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یعنی واقعی انھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ امریکہ 1979ء میں جو ہمارے ملک میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کا سال ہے، آج کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ جمی کارٹر جو اس وقت امریکہ کے صدر تھے، آج جو صاحب اقتدار میں ہیں، ان سے کہیں زیادہ سمجھدار تھے۔ ان کی طاقت بھی زیادہ تھی۔ موجودہ صدر کی تو طاقت بھی کافی کمتر ہے۔ مالیاتی توانائی بھی کمتر ہے، سیاسی طاقت بھی کمتر ہے۔ ایران میں ان کا ایک مہرہ بھی تھا، جو تمام امور پر مسلط تھا۔ محمد رضا پہلوی ان کا مہرہ تھا۔ انھیں کے لئے کام کرتا تھا۔ ان کا طرفدار تھا اور یہاں تمام امور مملکت اس کے ہاتھ میں تھے۔ یہ چیز بھی ان کے پاس تھی۔ لیکن پھر بھی ملت ایران نے خالی ہاتھ امریکہ کو شکست کا مزہ چکھایا۔
ممکن ہے کہ آپ کہیں کہ "وہ انقلاب تھا" تو آج بھی انقلاب ہے۔ آج بھی جوشیلے انقلابی نوجوانوں کی تعداد اس زمانے کے مقابلے میں جب اسلامی انقلاب فتح سے ہمکنار ہوا تھا، کم نہیں ہے، بلکہ آج کے نوجوانوں کی انقلابی فکر کی گہرائی زیادہ ہے۔ یہ صورت حال ہے۔ اس کے نمونے آپ ملک میں پیش آنے والے گوناگوں واقعات میں دیکھ سکتے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 14 مئی 2019ء میں انقلابی رستے کے پیروکاروں کو بتا دیا تھا کہ مستقبل میں کیا صورت حال پیش آسکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی یے کہ ارادوں کی اس جنگ میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بتائے گئے اصولوں کو مشعل راہ بنایا جائے اور طاغوتی طاقتوں سے پنجہ آزمائی کے لئے اپنے آپ کو میدان مبارزہ میں اترنے کے لئے کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیئے۔ خوف پر قابو پانے کے لئے خوف کے سمندر میں اترنا ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہبر معظم انقلاب اسلامی اسلامی جمہوریہ نوجوانوں کی امریکہ کے کی ضرورت ایران کے ایران کی صورت حال یہ ہے کہ کی طاقت نہیں ہے نے اپنی کے خلاف کمتر ہے کو بھی جنگ کے رہا ہے کسی کو ہے اور کے لئے آج بھی دیا ہے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔