ورلڈ بینک کے صدر پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے، وہ 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران اجے بنگا اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جس میں وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم، وزیر خزانہ، وزیر توانائی اور اقتصادی امور کے حکام شامل ہیں۔
ملاقاتوں میں معاشی اصلاحات اور بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجے بنگا کو پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات سے آگاہ کیا جائے گا۔
انڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان کا بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
اس کے علاوہ عالمی بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عملدرآمد میں پیشرفت بھی متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ عالمی بینک اس فریم ورک کے تحت 2035 تک پاکستان کو 20 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔