امریکی سپر ماڈل بیلا حدید اپنے بوائے فرینڈ اور پروفیشنل کاؤ بوائے آدان بنیولوس کے ساتھ بریک اپ کی خبروں کے باوجود ایک بار میں ڈانس کرتی نظر آئیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر وائرل ہو گئی ہے۔

وائرل کلپ میں دونوں پس منظر میں بجنے والی موسیقی پر جھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹوں بعد آدان بنیولوس کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق انہیں عوامی مقام پر نشے کی حالت میں ہونے کے الزام میں ہفتہ 31 جنوری کو حراست میں لیا گیا۔

میڈیا اداروں پیپل اور انٹرٹینمنٹ ٹونائٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بیلا اور آدان کے تعلقات کچھ عرصے سے کشیدہ تھے اور ان کا آن اینڈ آف رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ تاہم اس ویڈیو کے بعد مداحوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ شاید دونوں کے درمیان علیحدگی نہیں ہوئی بلکہ یہ سب میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے تھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا:
“وہ اتنی نشے میں ہے کہ ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہی، یہ جوڑی واقعی جنت میں بنی ہے۔”

ایک اور نے کہا:
“بیلا اور آدان قانون کے ہاتھ آنے سے پہلے تک خوب پارٹی کر رہے تھے۔”

کچھ مداح اس بات پر بھی مایوس دکھائی دیے کہ بیلا حدید نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ شراب نوشی چھوڑ چکی ہیں۔ ایک فالوور نے لکھا:
“کیا وہ اس وقت اس کے ساتھ تھیں جب اسے گرفتار کیا گیا؟ مجھے لگا بیلا نے برسوں پہلے شراب چھوڑ دی تھی۔”

واضح رہے کہ نہ بیلا حدید اور نہ ہی آدان بنیولوس نے اب تک سرکاری طور پر علیحدگی کی تصدیق کی ہے، اور یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتاری کے وقت بیلا ان کے ساتھ موجود تھیں یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: آدان بنیولوس بیلا حدید

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت