کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے والی 8ویں کی طالبہ کون؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی درخواست پر سماعت کی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت قانون و انصاف سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر دیے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کی اور تمام فریقین کو 10 فروری تک شق وار جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
درخواست گزار 8ویں جماعت کی طالبہ ہیں جنہوں نے وکیل شیزہ قریشی کے ذریعے یہ پٹیشن لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے ۔وکیل شیزہ قریشی نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ یہ درخواست بچوں کی حفاظت اور ان کی ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے دائر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے معاملے میں اہم پیشرفت
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے شیزہ قریشی نے بتایا کہ یہ دارخوست میری بیٹی کی طرف سے دائرہ کی گئی ہے، میں ایک ماں ہوں اور جب میں نے دیکھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کے مزاج میں تبدیلی آ رہی ہے، تو میں نے اپنی بیٹی کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مشورہ دیا۔ میری بیٹی نے مجھے وکیل کیا اور ہم دراخوست دائرہ کر دی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور تمام فریقین کو جواب جمع کرانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا، یہ حکومت کا پالیسی معاملہ بھی ہونا چاہیے۔عدالت نے پی ٹی اے اور دیگر اداروں کو 10 فروری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک جیسی ایپس، بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ یہ بچوں کی نفسیات کو متاثر کرتا ہے اور انہیں دہشت گردی، سائبر بلیئنگ اور نامناسب مواد کا شکار بنا سکتا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھیے: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے
شیزہ قریشی نے وی نیوز کو بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر ایک انویسٹیگیشن چل رہی ہے جس میں سوشل میڈیا ایپس کی کمپنیاں یہ تسلیم کر رہی ہیں کہ وہ بچوں کو عادی بنانے کے لیے الگورتھم استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان میں اس معاملے پر کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ ‘پیکا کا قانون صرف پورنوگرافی کو کور کرتا ہے اور والدین کی شکایت کے بغیر کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ 2023 میں ڈیٹا پرائیویسی بل آیا تھا جس میں عمر کی حد کی بات کی گئی تھی، لیکن وہ واضح نہیں تھا۔’ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک، جیسے آسٹریلیا، نے حال ہی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کی ہے، اور پاکستان کو بھی اسی طرح اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیے: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے شیزہ قریشی نے کہا یہ کیس پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال اور بچوں کی ڈیجیٹل سیفٹی پر بحث کا کیس ہے، جہاں لاکھوں کم عمر صارفین پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں۔ اگر عدالت نے یہ پابندی نافذ کی تو سوشل میڈیا کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے سخت اقدامات اپنانے پڑیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچے سوشل میڈیا عدالت ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے سوشل میڈیا عدالت ہائیکورٹ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی بچوں کی کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔