لاہور ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی درخواست پر سماعت کی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت قانون و انصاف سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر دیے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کی اور تمام فریقین کو 10 فروری تک شق وار جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

درخواست گزار 8ویں جماعت کی طالبہ ہیں جنہوں نے وکیل شیزہ قریشی کے ذریعے یہ پٹیشن لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے ۔وکیل شیزہ قریشی نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ یہ درخواست بچوں کی حفاظت اور ان کی ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے دائر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے معاملے میں اہم پیشرفت

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے شیزہ قریشی نے بتایا کہ یہ دارخوست میری بیٹی کی طرف سے دائرہ کی گئی ہے، میں ایک ماں ہوں اور جب میں نے دیکھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کے مزاج میں تبدیلی آ رہی ہے، تو میں نے اپنی بیٹی کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مشورہ دیا۔ میری بیٹی نے مجھے وکیل کیا اور ہم دراخوست دائرہ کر دی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور تمام فریقین کو جواب جمع کرانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا، یہ حکومت کا پالیسی معاملہ بھی ہونا چاہیے۔عدالت نے پی ٹی اے اور دیگر اداروں کو 10 فروری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک جیسی ایپس، بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ یہ بچوں کی نفسیات کو متاثر کرتا ہے اور انہیں دہشت گردی، سائبر بلیئنگ اور نامناسب مواد کا شکار بنا سکتا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

یہ بھی پڑھیے: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے

شیزہ قریشی نے وی نیوز کو بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر ایک انویسٹیگیشن چل رہی ہے جس میں سوشل میڈیا ایپس کی کمپنیاں یہ تسلیم کر رہی ہیں کہ وہ بچوں کو عادی بنانے کے لیے الگورتھم استعمال کرتی ہیں۔

پاکستان میں اس معاملے پر کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ ‘پیکا کا  قانون صرف پورنوگرافی کو کور کرتا ہے اور والدین کی شکایت کے بغیر کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ 2023 میں ڈیٹا پرائیویسی بل آیا تھا جس میں عمر کی حد کی بات کی گئی تھی، لیکن وہ واضح نہیں تھا۔’ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک، جیسے آسٹریلیا، نے حال ہی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کی ہے، اور پاکستان کو بھی اسی طرح اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیے: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے شیزہ قریشی نے کہا یہ کیس پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال اور بچوں کی ڈیجیٹل سیفٹی پر بحث کا کیس ہے، جہاں لاکھوں کم عمر صارفین پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں۔ اگر عدالت نے یہ پابندی نافذ کی تو سوشل میڈیا کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے سخت اقدامات اپنانے پڑیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بچے سوشل میڈیا عدالت ہائیکورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بچے سوشل میڈیا عدالت ہائیکورٹ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی بچوں کی کے لیے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل