ڈنمارک کے فوجیوں کی توہین؟ ٹرمپ کے خلاف ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کے خلاف خاموش احتجاجی مارچ میں شرکت کی۔
یہ مارچ ڈنمارک کی ویٹرنز ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد افغانستان جنگ میں نیٹو کے غیر امریکی فوجیوں کے کردار کو کم تر قرار دینے والے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرنا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احتجاج میں 8 ہزار سے 10 ہزار افراد شریک ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کی تعداد کم از کم 10 ہزار بتائی ہے۔ شدید سرد موسم کے باوجود شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے فوجی اہلکاروں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ احتجاج 22 جنوری کو دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یورپی نیٹو فوجی افغانستان میں محاذِ جنگ سے پیچھے رہے۔ اس بیان پر ڈنمارک سمیت یورپ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
احتجاجی مارچ کا آغاز کوپن ہیگن کے تاریخی قلعے کاسٹیلیٹ سے ہوا، جہاں افغانستان میں جان سے جانے والے فوجیوں کی یادگار پر مختصر تقریب منعقد کی گئی۔ اس کے بعد مظاہرین خاموشی سے امریکی سفارتخانے کی جانب روانہ ہوئے۔
ویٹرنز ایسوسی ایشن کے نائب صدر سورن نڈسن نے کہا کہ اس احتجاج کا نام “NoWords” رکھا گیا ہے کیونکہ ٹرمپ کے بیان پر جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیان نہ صرف ڈنمارک کے فوجیوں بلکہ مشترکہ اقدار کی توہین ہے جن کے لیے دونوں ممالک نے مل کر قربانیاں دیں۔
مظاہرین میں سابق فوجی اہلکار، عام شہری اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ بھی شامل تھے۔ کئی افراد فوجی وردیوں میں ملبوس تھے جبکہ بعض کے ہاتھوں میں ڈنمارک کے جھنڈے اور احتجاجی پلے کارڈز تھے۔ مارچ کے دوران کوئی نعرہ بازی نہیں کی گئی اور فضا سوگوار رہی۔
واضح رہے کہ افغانستان جنگ کے دوران 44 ڈنمارک فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی یاد میں امریکی سفارتخانے کے باہر 44 ڈنمارک پرچم لگائے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں ہٹانے پر امریکی سفارتخانے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد میں سفارتخانے نے معذرت کرتے ہوئے جھنڈے دوبارہ نصب کر دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ