اپنی زندگی میں اس قدر تشویشناک صورتحال نہیں دیکھی،اختر مینگل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(مانیڑنگ ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کو نو انٹری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ایکس پر اپنے بیان میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’میڈیا ہاؤسز سب خاموش ہیں، میں نے اپنی زندگی میں اس قدر تشویشناک صورتحال نہیں دیکھی۔ کیا وزیر داخلہ واضح کر سکتے ہیں کہ ایس ایچ او کہاں ہے؟اختر مینگل کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ جب ہماری پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں تو نام نہاد سیاسی رہنما اپنا اصلی چہرہ دکھا رہے ہیں ہم ان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں یہ ہمارے لیے کوئی عجیب بات نہیں۔خیال رہے کہ اگست 2024 میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اْنھوں نے کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں آپریشن کی ضرورت نہیں، یہ دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔اْن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بزدل دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے لیے کسی لمبی چوڑی سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اختر مینگل تھا کہ
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔