ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کے خلاف خاموش احتجاجی مارچ میں شرکت کی۔

یہ مارچ ڈنمارک کی ویٹرنز ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد افغانستان جنگ میں نیٹو کے غیر امریکی فوجیوں کے کردار کو کم تر قرار دینے والے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرنا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احتجاج میں 8 ہزار سے 10 ہزار افراد شریک ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کی تعداد کم از کم 10 ہزار بتائی ہے۔ شدید سرد موسم کے باوجود شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے فوجی اہلکاروں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ احتجاج 22 جنوری کو دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یورپی نیٹو فوجی افغانستان میں محاذِ جنگ سے پیچھے رہے۔ اس بیان پر ڈنمارک سمیت یورپ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

احتجاجی مارچ کا آغاز کوپن ہیگن کے تاریخی قلعے کاسٹیلیٹ سے ہوا، جہاں افغانستان میں جان سے جانے والے فوجیوں کی یادگار پر مختصر تقریب منعقد کی گئی۔ اس کے بعد مظاہرین خاموشی سے امریکی سفارتخانے کی جانب روانہ ہوئے۔

ویٹرنز ایسوسی ایشن کے نائب صدر سورن نڈسن نے کہا کہ اس احتجاج کا نام “NoWords” رکھا گیا ہے کیونکہ ٹرمپ کے بیان پر جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیان نہ صرف ڈنمارک کے فوجیوں بلکہ مشترکہ اقدار کی توہین ہے جن کے لیے دونوں ممالک نے مل کر قربانیاں دیں۔

مظاہرین میں سابق فوجی اہلکار، عام شہری اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ بھی شامل تھے۔ کئی افراد فوجی وردیوں میں ملبوس تھے جبکہ بعض کے ہاتھوں میں ڈنمارک کے جھنڈے اور احتجاجی پلے کارڈز تھے۔ مارچ کے دوران کوئی نعرہ بازی نہیں کی گئی اور فضا سوگوار رہی۔

واضح رہے کہ افغانستان جنگ کے دوران 44 ڈنمارک فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی یاد میں امریکی سفارتخانے کے باہر 44 ڈنمارک پرچم لگائے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں ہٹانے پر امریکی سفارتخانے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد میں سفارتخانے نے معذرت کرتے ہوئے جھنڈے دوبارہ نصب کر دیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈنمارک کے ٹرمپ کے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل