سیالکوٹ: شادی کی تقریب میں واردات کی کوشش، باراتیوں نے پرس چھین کر بھاگتے بچے کو پکڑ لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سیالکوٹ میں شادی کی تقریب میں چوری کی واردات کی کوشش کی گئی جب کہ باراتیوں نے پرس چھین کر بھاگتے 12 سالہ بچے کو پکڑ لیا۔
رپورٹ کے مطابق تھانہ اگوکی کے علاقہ میں واقع شادی حال میں ڈکیتی کی واردات کی کوشش کی گئی، ڈکیتوں نے واردات کے لیے حال میں 12 سالہ بچے کو بھیجا۔
ترجمان سیالکوٹ پولیس نے بتایا کہ شادی میں شریک خاتون کا پرس چھین کر بھاگتے ہوئے بچے کو کو باراتیوں نے پکڑ لیا شادی ہال کے باہر گاڈی میں بیٹھے ہوئے ڈاکوؤں نے ساتھی پچے کو چھڑانے کی کوشش کی، اور بچے کو چھڑانے میں ناکامی پر مسلح ڈاکوؤں نے باراتیوں پر فائرنگ کردی۔
ترجمان سیالکوٹ کے مطابق فائرنگ سے 3 افراد زخمی ہوگئے اور ڈاکو ساتھی کم عمر ڈاکو کو چھڑا کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کو تلاش کیا جا رہا ہے، جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
ترجمان سیالکوٹ پولیس نے کہا کہ تینوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، زخمی ہونے والے افراد میں 31 سالہ طلحہ فاروق ،27 سالہ زیب ندیم اور عبداللہ شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔