پاکستان 63 فیصد شرحِ خواندگی کیساتھ جنوبی ایشیا میں سب سے پیچھے ہے ، فافن رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی ادارہ شماریات کےاعداد وشمارپرشرح خواندگی سےمتعلق فافن کی جنوبی ایشیائی ممالک پر جائزہ رپورٹ جاری کردی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد ہے،جو جنوبی ایشیا کےدیگرممالک کے مقابلےمیں سب سےکم ہے، 2018-19 کےمقابلےمیں شرح خواندگی میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا ہے،جو انتہائی سست پیشرفت کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کےمطابق پاکستان میں مردوں کی شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی صرف 54 فیصدہے،جو واضح صنفی عدم مساوات کوظاہرکرتی ہے،صوبائی سطح پرپنجاب میں شرح خواندگی سب سے زیادہ 68 فیصد ریکارڈ کی گئی،جبکہ بلوچستان میں یہ شرح سب سے کم 49 فیصد ہے۔
سیالکوٹ: شادی کی تقریب میں واردات کی کوشش، باراتیوں نے پرس چھین کر بھاگتے بچے کو پکڑ لیا
رپورٹ کےمطابق جنوبی ایشیامیں مالدیپ 98 فیصدشرح خواندگی کےساتھ سرفہرست ہے، جبکہ سری لنکامیں شرح خواندگی 93 فیصد ،بھارت میں 87 فیصد اوربنگلا دیش میں 79 فیصد ہے،خطےکی اوسط شرح خواندگی 78 فیصد ہے،جبکہ پاکستان اس اوسط سے بھی خاصا پیچھے ہے۔
فافن کےمطابق نوجوانوں میں شرح خواندگی 77 فیصد جبکہ بالغ آبادی میں یہ صرف 60 فیصد ہے،آئین پاکستان کےآرٹیکل 25-اے کےتحت تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے،پاکستان ایس ڈی جیز کےتحت معیاری تعلیم کا پابند ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میں شرح خواندگی فیصد ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔