حکومت کی جانب سے عوامی قرض قانونی حد سے تجاوز ہونے کا اعتراف، پی ٹی آئی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمان میں جمع کرائی گئی سرکاری قرضہ جاتی پالیسی رپورٹ میں عوامی قرض کے قانونی حد سے تجاوز کرنے کے اعتراف پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کا کل عوامی قرض بڑھ کر 80.
یہ بھی پڑھیے: ہر پاکستانی پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے ہو گیا، وزارتِ خزانہ کا انکشاف
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح عوامی قرض قانونی حد سے 16.8 کھرب روپے یا 14.7 فیصد تجاوز کر گیا ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی اور حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا ثبوت ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے باعث وفاقی بجٹ کا تقریباً 50 فیصد حصہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہو چکے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں ٹیکس آمدن 7.174 کھرب روپے رہی، جو نظرثانی شدہ ہدف سے 347 ارب روپے کم ہے، جبکہ سالانہ بنیادوں پر ٹیکس آمدن میں صرف 10.5 فیصد اضافہ ہوا، جو مطلوبہ شرح سے کہیں کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بی آر ٹی منصوبوں کے لیے مہنگے قرضوں کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ یہ صورتحال فارم 47 کے نتیجے میں قائم ہونے والی غیر نمائندہ حکومت اور نااہل وزیر خزانہ کی ناکام کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ پارٹی کے مطابق موجودہ حکومت عوام کی منتخب نمائندہ نہیں، اسی لیے اسے عوام کے مسائل، مہنگائی اور ملکی معیشت کے مستقبل سے کوئی سروکار نہیں۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ حکومتی پالیسیاں صرف اقتدار کے تحفظ اور اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں، جبکہ عوام کو قرض، مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے، جو ملک کو تاریخ کے بدترین مالیاتی بحران کی جانب دھکیل رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارلیمان پی ٹی آئی قرض معیشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمان پی ٹی ا ئی عوامی قرض پی ٹی آئی کی جانب
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔