پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی وزیراعظم اور حکومتی برآمدات دوست پالیسیوں پر بھرپور ستائش
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی برآمدات دوست پالیسیوں کو سراہتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی سی نے وزیراعظم کی جانب سے ٹاپ ایکسپورٹرز کو اعزاز دینے کے اقدام کو برآمدی شعبے پر اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا۔ کونسل کے مطابق یہ اقدام حکومت کی برآمدات بڑھانے اور صنعت کو سہارا دینے کی سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہے۔
چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل فواد انور نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ایکسپورٹس کو مارکیٹ بیسڈ سپورٹ فراہم کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں برآمدی صنعت کے لیے مالی دباؤ کم کرنے کے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
فواد انور نے ایکسپورٹ ری فنانس فیسلٹی میں کمی کو حکومت اور اسٹیٹ بینک کے درمیان بہترین پالیسی ہم آہنگی کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے صنعتی بجلی ٹیرف میں کراس سبسڈی کے خاتمے پر بھی وزیراعظم اور حکومت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مزید پڑھیںبرآمدی سرگرمیاں گھٹنے سے 150 ٹیکسٹائل ملز اور 400 کاٹن جننگ فیکٹریاں غیر فعال
چیئرمین پی ٹی سی نے وزیر تجارت جام کمال خان کی قیادت میں برآمدی شعبے کو عملی سہولت کاری فراہم کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ پالیسیاں پاکستان کی برآمدات میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
انہوں نے بھارت اور یورپی یونین کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کہا کہ خوف کے بجائے پاکستان کو اپنی مسابقتی صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے حکومت کے ساتھ مل کر پائیدار برآمدی ترقی اور زرمبادلہ میں اضافے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔