تیراہ صورتحال، سیاسی جرگہ، امداد تقسیم معاملہ پر خیبر پی کے حکومت پر تنقید: غلط بیانیہ بنانے والے قوم سے معافی مانگیں، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد‘پشاور ( اپنے سٹاف رپورٹر سے‘نیٹ نیوز ) جرگہ باڑہ میں تیراہ کے نمائندہ قبائلی عمائدین اور مشران کے مطالبے پر طلب کیا گیا تھا جس نے صوبائی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات پر مستقبِل کا لائحہ عمل طے کیا جرگہ نے تیراہ میں بدانتظامی کے ضمن میں صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جرگہ ممبران نے متاثرین میں چار ارب کی تقسیم میں کرپشن اور سیاسی مداخلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جرگہ ممبران نے قیام امن کے لئے سیکیورٹی فورسز کو خراج عقیدت پیش کیا قومی جرگے کا ایجنڈا سابق چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی نے پیش کیاباڑہ سیاسی اتحاد نے تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی، ہمدردی اور بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ ہم نے خوارج کے ساتھ دو مرتبہ جرگہ کیا، اس کے بعد ہم نے جرگے کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور تیراہ کے مشران کو سونپ دی، مگر دونوں جرگے ناکام رہے، سابق چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی متاثرینِ تیراہ کے مسائل کسی ایک علاقے یا قبیلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے، جس کا حل مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا ، باڑہ سیاسی اتحاد باڑہ سیاسی اتحاد نے متفقہ اعلامیہ پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے ، باڑہ سیاسی اتحاد تیراہ میں خوارج کی جانب سے فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر حملے اور کواڈ کاپٹر گرانے جیسے اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ عمل عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں ، باڑہ سیاسی اتحاد تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے اور معاہدے تحریری و عملی طور پر تسلیم اور نافذ کیے جائیں ، باڑہ سیاسی اتحاد متاثرینِ تیراہ کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت اقربا پروری،انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ، باڑہ سیاسی اتحاد تیراہ میں گھر یا جائیداد رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائیسب کو امدادی پیکیج میں شامل کیا جائے ، باڑہ سیاسی اتحاد سیاسی اتحاد باڑہ اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے باڑہ سیاسی اتحاد کے انعقاد پر ردعمل میں کہا ہے کہ وادی تیراہ کے لوگوں نے پاک فوج پر اعتماد کا اظہار کیا۔ تیراہ پر جو بیانیہ بنایا گیا انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے حکومت نے لوگوں کے ریلیف کیلئے کچھ نہیں کیا۔ چار ارب روپے لوگوں کی مدد کیلئے رکھے گئے تھے اس کا کوئی حساب نہیں۔ میڈیا پر ان کے مزید شعبدہ بازی کرتے نظر آئیں گے۔ تیراہ میں کوئی نظر نہیں آیا۔ خیبر پی کے حکومت کو انسداد دہشتگردی کے لئے اربوں روپے دیئے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔