شادی کی تقریب میں حد سے زیادہ بے تکلفی، ہانیہ عامر اور یاسر حسین کی ویڈیوز وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
کراچی میں معروف فیشن ڈیزائنر عمر عالم کی شادی کی تقریب سوشل میڈیا پر خاصی توجہ کا مرکز بن رہی ہے، جہاں شوبز انڈسٹری کی کئی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب میں اداکارہ ہانیہ عامر اور اداکار یاسر حسین کی ایک خوشگوار ملاقات کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں، جن پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر مردانگی کے تصور پر کھل کر بول پڑیں
تقریب میں ہانیہ عامر اور یاسر حسین طویل عرصے بعد ایک دوسرے سے ملے۔ دونوں کو بات چیت کرتے، پرانی یادیں تازہ کرتے اور خوشی کا اظہار کرتے دیکھا گیا، ہانیہ عامر سرخ روایتی لباس میں نظر آئیں جبکہ یاسر حسین نے شیروانی پہن رکھی تھی۔ ان کی دوستانہ گفتگو کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Amna Rasool (@allpakshowbizstarz)
وائرل ویڈیوز کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس ملاقات کو ناپسند کیا۔ کئی صارفین نے ہانیہ عامر کی شادی شدہ مرد کے ساتھ اس طرح کی بے تکلفی پر تنقید کی اور فاصلے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، کچھ صارفین نے اداکارہ اقرا عزیز کی تقریب میں عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے پہلے ہی طلاق؟ ہانیہ عامر کا نجومی کی پیشگوئی پر دلچسپ تبصرہ
سوشل میڈیا پر یہ رائے بھی سامنے آئی کہ ہانیہ عامر ہر تقریب میں حد سے زیادہ خوش مزاج اور بے تکلف نظر آتی ہیں۔ چند صارفین نے یہ تاثر دیا کہ یاسر حسین تقریب کے ماحول میں حد سے زیادہ پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ممکن ہے گفتگو کی یہ نوعیت اس لیے ہو کہ عاصم اظہر اور یاسر حسین کے درمیان قریبی دوستی ہے۔
اگرچہ کئی صارفین نے اس ملاقات پر تنقید کی، تاہم کچھ مداحوں نے اسے محض ایک دوستانہ اور خوشگوار لمحہ قرار دیا۔ مجموعی طور پر یہ ویڈیوز ایک بار پھر شوبز شخصیات کی نجی تقریبات میں رویوں اور عوامی ردعمل پر بحث کا سبب بن گئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اقرا عزیز پاکستانی شوبز سوشل میڈیا بحث سیلیبریٹی شادی شوبز نیوز عاصم اظہر کراچی شادی ہانیہ عامر ویڈیو وائرل یاسر حسین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی شوبز سوشل میڈیا بحث سیلیبریٹی شادی شوبز نیوز کراچی شادی ہانیہ عامر ویڈیو وائرل یاسر حسین سوشل میڈیا پر ہانیہ عامر یاسر حسین صارفین نے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔