ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای انقلاب کی سالگرہ پر منظر عام پر آئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران :ایران کے سپریم لیڈر آیت خامنہ ای کئی ہفتوں کے بعد عوامی سطح پر نظر آئے اور انقلاب ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دی۔
اس موقع پر آیت خامنہ ای نے نہ صرف مزار پر فاتحہ اور دعا کی بلکہ مزار کے احاطے میں نماز بھی ادا کی۔ انہوں نے اس دوران آیت خمینی کے پوتے حسن خمینی سے ملاقات کی اور انقلاب کے مقصد اور ایران کی موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اپنی کابینہ کے ہمراہ شریک ہوئے، جبکہ دیگر حکومتی عہدیدار اور فوجی افسران نے بھی انقلاب کی یاد میں خراج عقیدت پیش کیا۔
ایرانی میڈیا نے اس پیش رفت کو سپریم لیڈر کی عوامی سطح پر واپسی کے طور پر دیکھا ہے کیونکہ وہ گزشتہ چند ہفتوں سے کسی عوامی تقریب یا سرکاری تقریبات میں نظر نہیں آئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔