ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای انقلاب کی سالگرہ پر منظر عام پر آئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران :ایران کے سپریم لیڈر آیت خامنہ ای کئی ہفتوں کے بعد عوامی سطح پر نظر آئے اور انقلاب ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دی۔
اس موقع پر آیت خامنہ ای نے نہ صرف مزار پر فاتحہ اور دعا کی بلکہ مزار کے احاطے میں نماز بھی ادا کی۔ انہوں نے اس دوران آیت خمینی کے پوتے حسن خمینی سے ملاقات کی اور انقلاب کے مقصد اور ایران کی موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اپنی کابینہ کے ہمراہ شریک ہوئے، جبکہ دیگر حکومتی عہدیدار اور فوجی افسران نے بھی انقلاب کی یاد میں خراج عقیدت پیش کیا۔
ایرانی میڈیا نے اس پیش رفت کو سپریم لیڈر کی عوامی سطح پر واپسی کے طور پر دیکھا ہے کیونکہ وہ گزشتہ چند ہفتوں سے کسی عوامی تقریب یا سرکاری تقریبات میں نظر نہیں آئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔