ایرانی سپریم لیڈر کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے، صدر کے ہمراہ امام خمینی کے مزار پر حاضری
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ایرانی سپریم لیڈر کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے، صدر کے ہمراہ امام خمینی کے مزار پر حاضری WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز
تہران: (آئی پی ایس) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آ کر صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ امام خمینی کے مزار پر حاضری دی۔
انقلاب کی 47ویں سالگرہ پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بانی انقلاب امام خمینی کے مزار پر حاضری دی، اس موقع پر سپریم لیڈر نے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی سے ملاقات کی، سپریم لیڈر نے امام خمینی کے مزار کے احاطے میں نماز بھی ادا کی۔
بعدازاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور یورپی لیڈر ایران میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور یورپی لیڈر ایرانی معاشرے کی تقسیم چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان میں فورسز کا آپریشن مکمل: دو دن میں 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید امن پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہداکے لواحقین سے وعدہ ہے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے: وزیراعلی بلوچستان بھاری امریکی ٹیرف اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے، برطانوی اخبار مہنگائی کے ستائے عوام کیلیے بری خبر، ایل پی جی گیس مہنگی کر دی گئی ایرانی آرمی چیف نے امریکا اور اسرائیل کو حملے سے خبردار کر دیا طالبان کی پالیسیوں نے تقریبا ڈیڑھ کروڑ افغان شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کردیا بحریہ ٹا ئون کے ملک ریاض پاکستان میں مقدمات سے پریشان ، صحت بگڑنے لگیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امام خمینی کے مزار پر حاضری ایرانی سپریم لیڈر
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔