کراچی میں جماعت اسلامی کے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کا آغاز، مختلف اضلاع سے قافلوں کی آمد شروع
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:جماعت اسلامی کراچی کے تحت منعقد ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں شرکت کے لیے شہر کے مختلف اضلاع سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ شارع فیصل اور اس سے ملحقہ راستوں پر عوامی جوش و خروش نمایاں ہے، جہاں بڑی تعداد میں خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ مارچ میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع ملیر، ایئرپورٹ، شرقی، وسطی، غربی، کیماڑی، جنوبی، کورنگی اور سائٹ ایریا سمیت کراچی کے مختلف علاقوں سے کارکنان اور شہری منظم قافلوں کی صورت میں مقررہ راستوں کے ذریعے شارع فیصل پہنچ رہے ہیں۔ کئی قافلے پارٹی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ مارچ گاہ کی طرف رواں دواں ہیں، جن پر کراچی کے مسائل، بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی اور شہریوں کے حقوق سے متعلق نعرے درج ہیں۔
مارچ میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس عوامی احتجاج کو مزید نمایاں بنا دیا ہے۔ خواتین شرکاء کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی خستہ حالی اور عدم تحفظ جیسے مسائل نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، اسی لیے وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مارچ میں شریک ہوئی ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ شہر کے مسائل سے نئی نسل بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی مارچ میں شریک نظر آ رہی ہے جو بے روزگاری، تعلیمی مواقع کی کمی اور شہری سہولتوں کے فقدان کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور اب شہریوں کا صبر جواب دے چکا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان کے مطابق مارچ کے لیے کیے گئے تمام انتظامات مؤثر انداز میں جاری ہیں۔ شارع فیصل پر خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مرکزی اسٹیج نرسری پیڈسٹرین برج کے قریب قائم کیا گیا ہے۔ ہنگامی طبی امداد کے لیے مرکزی کیمپس، ایمبولینسز اور موبائل واش رومز کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ میڈیا نمائندگان کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مارچ کی سرگرمیوں کو بروقت عوام تک پہنچایا جا سکے۔ سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے لیے رضاکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے، جو شرکاء کی رہنمائی کر رہی ہے۔
مارچ میں شریک شہریوں کا کہنا ہے کہ ’’جینے دو کراچی‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ کراچی کے باسیوں کی اجتماعی آواز ہے، جو اپنے شہر میں جینے کا حق اور بنیادی سہولتیں مانگ رہے ہیں۔ عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مارچ کراچی کی حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بڑی تعداد کراچی کے رہے ہیں کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔