قانون کے شعبے میں خواتین کی کامیابیوں اور جدوجہد پر بین الاقوامی کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ملک اشرف: قانون کے شعبے میں خواتین کی کامیابیوں اور جدوجہد کے دس سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیاگیا جس میں سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
خواتین میں قانون کے پلیٹ فارم کی جانب سے لاہور کےفلیٹیز ہوٹل میں ہونے والی اس کانفرنس میں ملک بھر سے سینئر وکلاء، خواتین وکلاء، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور عدالتی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس کی مہمانِ خصوصی سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج جسٹس عائشہ اے ملک نےاپنے خطاب میں قانون کے شعبے میں خواتین کی نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو آئینی اور قانونی حقوق کی فراہمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے,خواتین وکلاء اور ججز نے اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت سے عدالتی نظام میں اپنا مقام بنایا ہےجو معاشرے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے
جسٹس عائشہ اے ملک نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر انصاف کی فراہمی کا نظام مکمل نہیں ہو سکتا، خواتین میں قانون جیسے پلیٹ فارمز نہ صرف خواتین وکلاء کی رہنمائی اور تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ قانونی شعور کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کی بانی ندا عثمان چوہدری نے کیا، اس موقع پر ندا عثمان چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں قانون کا بنیادی مقصد خواتین کو قانونی، پیشہ ورانہ اور سماجی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران اس پلیٹ فارم نے خواتین وکلاء کے لیے تربیتی پروگرامز، سیمینارز اور کانفرنسز کے ذریعے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔
آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا
تقریب کی میزبان ندا عثمان چوہدری اور چیئرمین لیگل ایجوکیشن کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حسیب اللہ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج جسٹس عائشہ اے ملک کو ان کی عدالتی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ایوارڈ پیش کیا، اس موقع پر ندا عثمان چوہدری نے خواتین کے شعبۂ وکالت میں حسیب اللہ خان ایڈووکیٹ کی خدمات کو بھی سراہا۔
کانفرنس میں مختلف سیشنز کے دوران خواتین کے حقوق، قانونی تعلیم، صنفی مساوات، عدالتی اصلاحات اور خواتین وکلاء کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی جس میں مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی سے نہ صرف عدالتی نظام مضبوط ہوگا بلکہ معاشرتی انصاف کو بھی فروغ ملے گا۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے خواتین کے حقوق کے تحفظ، قانونی شعور کے فروغ اور خواتین وکلاء کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بسنت:پولیس کی تیاری مکمل،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جسٹس عائشہ اے ملک ندا عثمان چوہدری میں خواتین خواتین کے خواتین کی قانون کے کے لیے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن