لاڑکانہ میں غیر قانونی بس اسٹینڈز شہر سے باہر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے احکامات پر غیر قانونی بس اسٹینڈز لاڑکانہ شہر سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں نشاندہی پر لاڑکانہ میں غیر قانونی بس اسٹینڈز اور بکنگ پوائنٹس کے خلاف کارروائی کی گئی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام ميمڻ نے معاملے کی سنگینی کو فوراً نوٹس میں لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت دی۔ ضلع انتظامیہ اور ڈی آر ٹی اے نے لاڑکانہ شہر کے اندر قائم غیر قانونی اسٹینڈز اور بکنگ پوائنٹس کو ہٹا کر شہر کے باہر منتقل کر دیا۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کارروائی کے دوران پانچ بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے اسٹینڈز بھی سیل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہر کے اندر کوئی گاڑی غیر قانونی طور پر نہ چلے اور عوام کو دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کو ہدایت دی ہے کہ متعلقہ حکام کے ذریعے نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ کوئی بھی بس یا کوچ شہر کے اندر داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔
مزید برآں محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر حکام کی جانب سے خصوصی چیکنگ اور نگرانی کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ غیر قانونی اسٹینڈز کے دوبارہ قیام کو روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام شہر کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔