لاہوریے بسنت کے بخار میں مبتلا، پتنگوں کی خریداری شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
لاہور میں پتنگوں کی خرید و فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث پتنگ ساز طلب پوری کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔
لاہور میں 6 سے 8 فروری تک بسنت فیسٹیول منانے کی تیاریاں عروج پر ہیں، جس کے لیے یکم فروری سے ہی مارکیٹوں میں پتنگیں اور ڈور کی فروخت شروع ہو گئی تھی۔ ان دنوں پتنگ ساز دن رات محنت کر کے رنگ برنگی پتنگیں تیار کر رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
پتنگ بازی کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ وہ یکم فروری کا شدت سے انتظار کر رہے تھے تاکہ بروقت پتنگیں خرید کر گھروں میں ذخیرہ کر سکیں۔
دوسری جانب پتنگ سازوں کا کہنا ہے کہ ان کے تمام آرڈرز مکمل ہو چکے ہیں اور اب مزید آرڈرز لینا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق طلب اس قدر زیادہ ہے کہ دستیاب وسائل کے باوجود سپلائی پوری نہیں ہو پا رہی۔
پتنگ سازوں نے بتایا کہ کام کے دباؤ کے باعث نہ انہیں مناسب نیند مل رہی ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا ہوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصروفیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر کسی آرڈر سے معذرت کریں تو لوگ جان پہچان اور سفارشوں کے ذریعے دوبارہ آرڈر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔