سانحہ گل پلازہ، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب اس شہر کا فیصلہ کروانا چاہیے، خالد مقبول صدیقی ، کامران ٹیسوری WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز

کراچی(آئی پی ایس )وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعظم اور وزیر اعلی دادرسی نہیں کرسکتے تو یہ گورنر ہاوس کرے گا ان سے کوئی امید نہیں رکھی، گورنر سندھ نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب شہر کا فیصلہ کروانا چاہیے گل پلازہ کے متاثرین کو گورنر سندھ اور ایم کیو ایم مل کر پلاٹ دے گی۔گورنر ہاوس میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرین سے متعلق تقریب کا انعقاد ہوا جس میں گورنر سندھ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، علی خورشیدی سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، تاجر رہنما جاوید بلوانی، زبیر موتی والا، سمیت دیگر بھی شریک ہوئے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ کراچی چیمبر نے بولٹن مارکیٹ میں پورا کام کیا تھا، ہم نے غیر سیاسی کمیٹی بنائی اور کام کیا، صدر پاکستان، مراد علی شاہ گورنر سندھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ہم فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی تربیت کا کام کررہے ہیں، لواحقین کو حکومت سندھ کی جانب سے معاوضہ ادا کیا گیا ہے، یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے جن کے لوگ گئے ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، کراچی چیمبر نے پہلے بھی ہر جگہ کام کیا تھا لوگوں کو بلڈنگ بنا کر دی تھی، ہماری خواہش یہی ہے جن کا جو مال گیا ہے وہ پورا کیا جائے بہت سارے لوگوں نے فارم فل کیے ہیں۔صدر یونین گل پلازہ تنویر پاستا نے کہا کہ گورنر سندھ نے یقین دلایا کہ جب تک ہمارے تاجر بحال نہیں ہوتے وہ ہر قدم پر ساتھ ہیں حکومت سندھ نے بھی بھرپور ساتھ دیا ہے، گورنر سندھ وفاق سے درخواست کریں کہ وہ بھی لواحقین کی مدد کریں۔جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ متاثرین کے لیے آواز بلند کروں، میں نے کہا تھا کہ آگ جس طرح بجھائی جارہی تھی وہ عمارت گرنے کا انتظار کیا جارہا تھا، انتظامات نہیں ہیں، لواحقین کو ڈیڑھ ڈیڑھ کلو راکھ دے دی گئی، پنجاب میں ایک عورت وزیر اعلی ہے نے ایک واقعے پر جو ایکشن لیا وہ سب کے سامنے ہے۔مولانا بشیرفاروقی نے کہا کہ گورنر سندھ وہ کام کرواسکتے ہیں جو ماضی میں کسی نے نہیں کیا، ایسا سیل قائم کریں جہاں ہر شخص کی فریاد پہنچے، متاثرین کو گھر کے اخراجات کے لیے سیلانی جو کردار ادا کرسکتا ہے وہ کررہا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ خالد مقبول کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ ان کی ہدایت پر اس سانحے پر سب سے پہلے گورنر سندھ پہنچے، انہوں نے اداروں سے فوری طور پر بات کی اور لوگوں کو زندہ بچایا کراچی کے لوگ یاد رکھیں کہ ہم ہر مشکل میں ان کے ساتھ کھڑے ہونگے، کئی سالوں سے یہاں مالی معاشی تباہی ہورہی ہے، گورنر سندھ ایک وفاقی نمائندے ہیں جو آپ کے دکھ درد میں آپ کے ساتھ ہیں ہمارے نظام میں جو کمی تھی اسے پورا کرنا ہے فائر ٹینڈر کیوں نہیں آئے؟ پانی کیوں کم تھا ان چیزوں پر قابو پانا ہے۔انہوں نے کہا کہ فارنسک لیبارٹری پانچ سال سے کیوں نہیں بن پائی؟ پی ڈی ایم اے سانحے پر کہاں غائب تھی؟ دروازے اور دیوار توڑ کر لوگوں کو کیوں نہیں بچایا جاسکا؟ کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے، بات اب فیصلے کی طرف جانی چاہیے ہمارا اس پر آئینی مطالبہ ہے، حادثہ خواب غفلت سے جگا رہا ہے تو جوابات دینے ہوں گے، چیف جسٹس اپنی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیں اور ٹی آر اوز بھی واضح ہونے چاہیں، یاد رکھیں کراچی بچے گا تو پاکستان بچے گا اور کراچی کو بچانے کے لیے تمام توانائی صرف کرنی چاہیے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ گل پلازہ میں لوگوں کو زندہ جلتے دیکھا، اس شہر میں سانحہ ہوجاتے ہیں لیکن انتظامیہ کے وسائل ایسے نہیں جو کسی کو بچاسکے وسائل ٹیکس کے پیسوں سے بچائے جاتے ہیں لیکن نہ وسائل بنائے جارہے ہیں نہ بنائے جانے کا کوئی ارادہ ہے ہاں لواحقین کو پیسے دے کر زبان بند کرتے ہیں یہ نیا طریقہ ہے، اس شہر میں مرنے والے کی قیمت کا تعین ختم ہوچکا ہے، آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں اس کے لیے کیا انتظامات کیے وہ نہیں بتایا جارہا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ یہاں سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے اس کا پانچ فیصد بھی یہاں نہیں لگایا جاتا، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب شہر کا فیصلہ کروانا چاہیے، اگر ہماری آواز اس سانحے پر بلند نہ ہوتی تو لواحقین کا کام آسان نہیں ہوتا، آج تقریب میں سب لوگ دھوپ میں بیٹھے ہیں جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ گل پلازہ میں لوگ آگ کی تپش سے کیسے مر گئے لواحقین پر سایہ ختم ہوگیا ہے، دھوپ کی تپش قابل برداشت نہیں تو آگ کی تپش کیسی ہوگی؟ لواحقین معاوضے کے لیے کن کن مشکلات سے دوچار ہیں یہ بتانا ضروری ہے، یہاں ٹیکس گردی ہورہی یہاں سے کمارہے ہیں مگر لگا نہیں رہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ ہم نے بلڈرز سے بات کی ہے لواحقین کو مفت پلاٹ دیں گے، ہم اپنے حق کی جدوجہد تو کریں گے اور جلد حق لے لیں گے، گل پلازہ کی آگ کے ہم سب ذمہ دار ہیں، یوسی ناظم، ٹان ناظم اور میئر کراچی سب ذمہ دار ہیں، یوسی پلازہ کا یوسی ناظم اور ٹائون ناظم کون تھا؟ جماعت اسلامی کے نو ٹانز ہیں، ایم کیو ایم کے بائیکاٹ سے تم کامیاب ہوئے تم ہماری طرح آواز بلند کرو، آج شاہراہ فیصل پر اسٹیج لگایا جارہا ہے آپ اپنے نو ٹانز کا حساب دیں، تختی لگانی ہو تو یہ پہنچ جاتے ہیں ہمیں تو اب پتا لگا کہ یہ بھی لیز کے معاملات میں شامل ہیں فاروق بھائی سے پہلے لیز انہوں نے دی تھی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سارا ملبہ ان پر ڈال دیا جو کچرہ اٹھانے کی سکت بھی نہیں رکھتے، کے پی سے وزیر اعلی کراچی آگئے اور کہاں کراچی ہمارا ہے گل پلازہ میں لوگ مر گئے اب نہیں کہہ رہے کہ کراچی ہمارا ہے، اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ جاتے ہیں مگر گل پلازہ کے باہر نہیں بیٹھتے، آئیں بیٹھے میں کھانا پینا فراہم کروں گا، جب کراچی جلتا ہے تو کوئی نہیں آتا اور جب کوئی بات کرتا ہے تو ڈرایا جاتا ہے مجھے روز ہٹانے کی بات کرتے ہیں، اس ڈر اور خوف سے حق کی آواز اٹھانا نہیں چھوڑوں گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سمیت مسلم ممالک کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت پاکستان سمیت مسلم ممالک کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت نگران وزیر اطلاعات گلگت بلتستان غلام عباس کی بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر پوری قوت سے عمل جاری ہے، طلال چوہدری علی ہجویری کا مزار روحانی سکون، برداشت اور ہم آہنگی کا عظیم مرکز ہے، نوازشریف آسٹریلیا نے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کردیا بلوچستان میں دہشت گردی،سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک کی مذمت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب شہر کا فیصلہ کروانا چاہیے خالد مقبول صدیقی سانحہ گل پلازہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار