انڈر 19 ورلڈ کپ: پاکستان سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام، ایونٹ سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے سپر سکس مرحلے میں پاکستان کا سیمی فائنل میں رسائی کا خواب چکنا چور ہوگیا اور یوں قومی ٹیم ایونٹ سے باہر ہوگئی۔
مزید پڑھیں: انڈر 19 ورلڈ کپ: سیمی فائنل کی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو بھارت کے خلاف بڑی فتح درکار
سپر سکس مرحلے کا اہم میچ اس وقت جاری ہے، جہاں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 253 رنز کا ہدف دیا اور قومی ٹیم کی بیٹنگ اس وقت جاری ہے۔
قومی ٹیم کی میچ پر گرفت مضبوط ہے، لیکن بھاری مارجن سے بھارت کو ہرانے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے 253 رنز کا ہدف 33.
مزید پڑھیں: انڈر19 ورلڈکپ: بھارت کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پہلی وکٹ گرگئی
آج کے میچ میں پاکستان انڈر 19 ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، بھارت کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 49.5 اوورز میں 252 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انڈر 19 ایونٹ سے باہر سیمی فائنل ورلڈ کپ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایونٹ سے باہر سیمی فائنل ورلڈ کپ وی نیوز سیمی فائنل قومی ٹیم ورلڈ کپ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔