12 فروری کے انتخابی نتائج بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کریں گے، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے آئندہ ہونے والے تیرہویں قومی پارلیمانی انتخابات کو بنگلہ دیش کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 12 فروری کا ووٹ ملک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
اتوار کی صبح جامع پور کے سنگھجانی ہائی اسکول گراؤنڈ میں گیارہ جماعتی انتخابی اتحاد کی مشترکہ عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہاکہ یہ انتخابات برسوں کے ظلم و ستم اور قربانیوں کے بعد آرہے ہیں، جن میں سینکڑوں جانیں گئیں، اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے، لیکن آمرانہ حکمرانی کے تاریک دور کا خاتمہ ہوا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا
انہوں نے زور دیا کہ ان انتخابات کو 2008، 2014، 2018 اور 2024 میں ہونے والے انتخابات سے مختلف نظر سے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اسے ’فاشسٹ سیاست‘ کو دفن کرنے کا موقع قرار دیا۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹرز سے کہاکہ اصلاحات اور قومی تجدید کے حق میں ووٹ دیں۔
انہوں نے غیر واضح مؤقف رکھنے والی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں واضح طور پر بتانے کے لیے چیلنج کیاکہ آیا وہ اصلاحات اور نئے سیاسی نظام کی حمایت کرتی ہیں یا نہیں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہاکہ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادی ملک بھر میں اصلاحات اور جوابدہی کے حق میں کھلے عام مہم چلا رہے ہیں اور دوسروں سے بھی شفافیت کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے زور دیا کہ یہ تحریک کسی جماعت کی فتح کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے 1.
انہوں نے 2024 کی نوجوان قیادت والی احتجاجی تحریکوں کے دوران اٹھائے گئے مطالبات اجاگر کیے، جن میں امتیاز ختم کرنا، روزگار پیدا کرنا، قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی سے پاک ملک شامل ہیں۔
انہوں نے ماضی میں شہید ہونے والے طلبہ اور کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے سالانہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے مالی گوشوارے پیش کریں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل مسلح افواج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم
خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گھر، کام کی جگہ اور عوامی زندگی میں سیکیورٹی، وقار اور مساوی مواقع دینے کا وعدہ کیا اور کہا کہ خواتین کو انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر حقوق ملیں گے۔
انہوں نے مذہبی اقلیتوں کو یقین دلایا کہ مذہب، نسل، زبان یا شکل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا اور اتحاد برقرار رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان قومی انتخابات وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان قومی انتخابات وی نیوز ڈاکٹر شفیق الرحمان نے بنگلہ دیش کے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔