بلوچستان میں حالیہ دہشتگردانہ حملوں پر ایران کے سفارت خانے کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ترجمان نے کہا کہ حملوں میں متعدد معصوم شہریوں اور بہادر سیکورٹی اہلکاروں اور سپاہیوں کی شہادت ہوئی ہے، ایرانی حکومت اور عوام کی جانب سے حکومت پاکستان اور عوام بالخصوص سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اسلام تائمز۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حملوں میں متعدد معصوم شہریوں اور بہادر سیکورٹی اہلکاروں اور سپاہیوں کی شہادت ہوئی ہے، ایرانی حکومت اور عوام کی جانب سے حکومت پاکستان اور عوام بالخصوص سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ سفارتخانے نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اصولی طور پر ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے، دہشت گردی عالمی برادری کے لیے ایک سنگین خطرہ اور تشویش کا باعث ہے۔ بیرونی عناصر کی حمایت سے ایسی گھناوٴنی حرکتوں کا مقابلہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ ایرانی سفارتخانے کے مطابق ہماری دعائیں اور نیک خیالات ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، ہم زخمیوں کی محفوظ اور جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور عوام
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔