کراچی، کرائے کے مکان یا فلیٹ میں رہائش ناممکن ہونے لگی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وہ لوگ جو مکان خریداری کے قابل نہ رہے، لیکن جوائنٹ فیملی میں رہنا نہیں چاہتے تو کرائے پر جانا مجبوری بن گیا، یوں کرائے تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئے، اگر کنٹرول نہ ہوا تو یہ معاملہ ایک بڑا معاشرتی چیلنج بن جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں گھر خریدنے کا خواب سالوں پہلے چور ہو چکا اور اب کرائے کے مکان یا فلیٹس میں رہائش بھی ناممکن ہو رہی ہے۔ متوسط طبقہ بچوں کی فیس بھرے، بجلی کے بھاری بل یا کچھ جمع کرے کہ گھر خرید ممکن ہو، مہنگائی کے وبال نے بمشکل فیس، راشن اور بجلی بل بھرنے کے قابل چھوڑا ہے۔ لہٰذا متوسط طبقے کو مکان خرید نے کا خواب ہی نہیں آتا، اب الارمنگ صورتحال یہ کہ کرایے کا مکان بھی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو گارڈن کے چھوٹے فلیٹس کے کرائے، گلستان جوہر میں 120 گز کے گھر کے پورشن کا کرایہ پورے 50 ہزار، اسکیم 33 میں کرایہ بہت اوپر، حتی کے ٹوٹے پھوٹے پہلوان گوٹھ پر پی ایچ اے فلیٹس کا کرایہ 60 ہزار روپے ہے۔
کراچی میں ایک سے ڈیرھ سال کے عرصے میں کرائے بہت تیزی سے بڑھے ہیں، گلستان جوہر میں صرف 1 کمرے کا فلیٹ 13 سے 15 ہزار میں دستیاب ہے۔ فلیٹس کی مینٹیننس اسکیم 33 جناح ایونیو پر 22 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ درمیانے فلیٹ کا کرایہ 70 ہزار روپے ہے، یعنی شہر سے دور اسکیم 33 میں 3 کمرے میں رہائش کی جائے تو ماہانہ تقریبا 1 لاکھ روپے کرائے، مینٹیننس اور بجلی کی مد میں دینا ہوں گے، اسکے ساتھ گھریلو اخراجات لگا کر دیکھیں تو 2 لاکھ کمانے والا شخص بمشکل ہی گذر بسر کے قابل رہا ہے۔
بلڈرز سمجھتے ہیں کہ دہائیوں پہلے تیسر ٹاؤن اور ایل ڈی اے کا بے اسکیم آباد نہ ہونے اور قبضہ و رشوت ستانی کے سبب سالانہ مکانوں کی سپلائی بہت کم لیکن طلب زیادہ ہے۔ اب وہ لوگ جو مکان خریداری کے قابل نہ رہے، لیکن جوائنٹ فیملی میں رہنا نہیں چاہتے تو کرائے پر جانا مجبوری بن گیا، یوں کرائے تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئے، اگر کنٹرول نہ ہوا تو یہ معاملہ ایک بڑا معاشرتی چیلنج بن جائے گا۔ ماہرین کے مطابق آسان قرض، لینڈ ریکارڈ میں بہتری، پرانی سرکاری رہائشی اسکیموں میں پانی بجلی گیس اور روڈ تعمیر کے ذریعے سے ہی مکان اور کرایے کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ میں لانا ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے قابل
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔