کراچی، خانہ فرہنگ میں پاکستانی وکلاء برادری کی کانفرنس، ایران سے اظہار یکجہتی، ویڈیو رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایڈووکیٹ منیر ملک نے وکلاء برادری کیجانب سے باضابطہ بیان پڑھتے ہوئے ایران کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیا اور خطے میں اسکے گہرے اور اسٹریٹجک کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران بالکل بھی شام، عراق یا لیبیا کیطرح نہیں بلکہ مضبوط قیادت و عوامی حمایت کے باعث بیرونی مداخلت کیخلاف ڈٹا ہوا ہے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 39ویں خصوصی اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف منظور کی گئی غیر منصفانہ قرارداد کی مذمت میں 1,740 پاکستانی وکلاء اور قانونی ماہرین کے مشترکہ قانونی بیان کے سنگِ میل کے بعد کراچی شہر سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی وکلاء برادری نے خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ پریس کانفرنس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران، اسکے عوام اور اسکی قانونی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ اس موقع پر سندھ ہائیکورٹ، سیشن کورٹ، سول کورٹ اور سٹی کورٹ سے تعلق رکھنے والے وکلاء خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس کی قیادت پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ منیر احمد ملک نے کی، انکے ہمراہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری غلام مصطفیٰ کورائی، کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اختیار علی چنا، سندھ بار کونسل کے رکن امیر بخش میتلو، ملیر کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ارشد علی شر، سید صداقت علی شاہ و دیگر سینئر وکلاء مووجد تھے۔
ایڈووکیٹ منیر احمد ملک نے تمام وکلاء برادری کی جانب سے باضابطہ بیان پڑھتے ہوئے ایران کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیا اور خطے میں اس کے گہرے اور اسٹریٹجک کردار پر روشنی ڈالی۔ ایڈووکیٹ منیر احمد ملک نے کہا کہ قومی خودمختاری اور استحکام کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، ایران بالکل بھی شام، عراق یا لیبیا کی طرح نہیں بلکہ مضبوط قیادت اور عوامی حمایت کے باعث بیرونی مداخلت کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران شدید دباؤ اور پروپیگنڈے کا سامنا کر رہا ہے، تاہم حکومتِ ایران کو کمزور کرنے کی کوششیں اور افواہیں ناکام ہونگی، کیونکہ ایرانی عوام ایسی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ خانہ فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور حکومتِ پاکستان بالخصوص پاکستانی وکلاء، مجسٹریٹ اور قانونی ماہرین کی مستقل اور اصولی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹڑ سعید طالبی نیا نے مغربی میڈیا اور سائبر پروپیگنڈے، جن میں CNN، BBC اور FOX جیسے چینلز شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے خلاف غلط بیانی اور منفی تاثر سازی کی نشاندہی کی، جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران اور اس کی قیادت کے ساتھ برادرانہ یکجہتی کو سراہا۔ انہوں نے بعض پُرتشدد واقعات میں غیر ملکی خفیہ اداروں کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آخر میں انہوں نے قانونی برادری اور میڈیا نمائندگان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے دوران شرکاء نے اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی شہداء کی یاد میں قائم یادگاری رجسٹر میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ اس موقع پر مہمانوں اور میڈیا نمائندگان کیلئے خانہ فرہنگ ایران کیجانب سے شائع کردہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصانیف کے اردو تراجم پر مشتمل کتابوں کے تحائف بھی یہش کئے۔ کانفرنس کے اختتام پر مہمانان گرامی کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران وکلاء برادری اور اس
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔