فوج ٹرمپ کی مرضی کے مطابق ایران کیخلاف حملے کر ہی نہیں سکتی، امریکی حکام
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اعلی امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جس "بڑے اور فیصلہ کن حملے" کی خواہش رکھتا ہے، اسے انجام دینا، امریکی و اسرائیلی مفادات کیخلاف ایران کی شدید انتقامی کارروائی کے خدشات کے باعث، سرے سے ممکن ہی نہیں! اسلام ٹائمز۔ انتہاء پسند امریکی صدر کی جانب سے؛ خطے میں "بڑا بحری بیڑا" بھیجنے اور "ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں" پر مبنی بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جورنل نے اعلی امریکی حکام سے نقل کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج، ایران میں محدود حملے کرنے کے لئے تو تیار ہے لیکن وہ ویسا "فیصلہ کن حملہ" کر ہی نہیں سکتی کہ جیسا "ٹرمپ" کی خواہش ہے.
امریکی اخبار کے مطابق، اس حوالے سے پینٹاگون کے ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے آپریشن کو انجام دینے کے حوالے سے؛ از قبل، اسرائیلی و امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے "مضبوط فضائی دفاع" کی ضرورت ہے جبکہ اس سلسلے میں پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم کو مشرق وسطی میں مزید اڈوں پر بھیجا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ایران کے شدید ردعمل کے بارے گہرے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اعلی امریکی حکام نے مزید کہا کہ موجودہ تشویشناک تشخیصات کے مطابق، امریکہ کے کسی بھی وسیع پیمانے پر فضائی حملے کے نتیجے میں (خطے بھر میں موجود) اسرائیلی و امریکی اثاثوں کے خلاف، ایران کی جانب سے مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے، بھاری جوابی کارروائی ہو سکتی ہے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی حکام کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔