مجھے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا شرمناک ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے پوری قوم تشویش میں ہے اور وہ جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت اس وقت کیسی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی نے کہا ہے کہ مجھے اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ کے پی ہاؤس اسلام اباد میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ میں صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا منتخب وزیراعلیٰ ہوں لیکن مجھے اڈیالہ جیل کے باہر روڈ پر کئی کئی گھنٹے انتظار کرایا جاتا ہے، عمران خان کی صحت کے حوالے سے پوری قوم تشویش میں ہے اور وہ جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت اس وقت کیسی ہے، عمران خان سے فیملی سمیت کسی کو ملاقات کی اجازت نہ دینا نہ صرف غیر انسانی سلوک ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ موجودہ حکومت سے ملک نہیں چل رہا، عدلیہ سمیت تمام ادارے مفلوج ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے، عوام پریشان ہیں اور کسان رل رہا ہے، وفاق کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک سنگین مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے، حکمرانوں کو ملک کی کوئی فکر نہیں، وفاق خیبر پختون خواہ کے بقایا جات کی ادائیگی نہ کرکے صوبے کو ترقی سے محروم کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کو بے بس کردیا گیا ہے، وفاق کے عدم تعاون کے باوجود صوبے میں ترقی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر شوکت یوسف زئی نے کہا کہ حکومت عوام سے خوفزدہ ہے، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا نہ صرف جیل مینول بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس اسپتال میں عمران خان کو رات کے اندھیرے میں لا کر علاج کا ڈرامہ رچایا گیا، اس اسپتال میں نواز شریف شہباز شریف یا مریم نواز اپنا علاج کرا لیں گے۔ حکومت وضاحت کرے کہ عمران خان کی بیماری اور ان کو رات کی تاریکی میں پمز لا کر علاج کرانے کی خبر کیوں خفیہ رکھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمران خان کی صحت کہ عمران خان کی خیبر پختونخوا نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔