بدامنی نے بلوچستان حکومت کے دعوؤں کی حقیقت کھول دی، جمعیت نظریاتی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اپنے بیان میں جے یو آئی نظریاتی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ خطے کی امن تباہ کرنے کیلئے خطرناک کھیل کھیلنے جا رہا ہے۔ آج بھی عالم اسلام متحد نہ ہوئے تو ایک ایک کو اس جنگ کی خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کا کہنا ہے کہ گذشتہ کوئٹہ کی ناقص بدامنی کی ابتر صورتحال نے حکومتی رٹ کی بحالی کے دعوؤں کی حقیقت کھول کر رکھ دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ امریکہ اس خطے میں بدامنی چاہتا ہے۔ حکمرانوں کو امریکی سازش سمجھنی ہوگی۔ اپنے مشترکہ بیان میں جے یو آئی نظریاتی کے امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین و دیگر رہنماؤں نے کہا کہ جمعیت نظریاتی کو صوبہ بھر میں بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے۔ دوسری جانب امریکہ خطے کی امن تباہ کرنے کے لئے خطرناک کھیل کھیلنے جا رہا ہے۔ آج بھی عالم اسلام متحد نہ ہوئے تو ایک ایک کو اس جنگ کی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ خطے میں بدامنی اور عدم استحکام سے امریکہ اپنی دھونس اور اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی جارحیت اور فساد سے دنیا کے کونے کونے میں امت مسلمہ جبر و تشدد کے نشانہ پر ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں امت مسلمہ بے بسی، اذیت ناک، انسانیت سوز مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری شورش بدامنی، خون کی ہولی فساد امریکی جارحیت کا تسلسل ہے۔ مذموم عزائم اور نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کے نام پر پہلے سے اس خطہ کا امن برباد کیا۔ اب خطے میں مزید بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ عالم اسلام حکمرانوں کے بے حسی اور بے بسی سے پورا خطہ اور اسلامی ممالک امن کے حوالے سے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمران خونخوار اقدامات اور خونریزی پر غلامی کی آڑ میں بزدلی کے شکار ہیں۔ اسلامی ممالک کو امن و سلامتی اور معیشت کے کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ عالمی استعمار اور اقوام متحدہ کی دوغلاپن اور منافقت سے دنیا میں سوا ارب آزاد مسلمان سیاسی، معاشی استحصالی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش بدامنی بحران اور مسائل پر دفاعی و معاشی معاہدے اور وحدت یکجہتی کی اہم ضرورت ہے۔ امریکہ سازشی منصوبے کے تحت عالم اسلام پر امن حالات کو خراب کرنے کے لیے خطرناک ارادے رکھتی ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی معاہدات استحکام اور روابط کے لیے ایک مضبوط اتحاد ناگزیر ہوچکا ہے۔ مسلم ممالک پر سفاکانہ پابندیوں کے باعث انسانی بحران کا المیہ ہے۔ مسلم ممالک ایک دوسرے کو تنہاء چھوڑنے سے مسلسل ظلم اور بربریت اورمعاشی استحصالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالم اسلام کی معیشت، دفاعی قوت، امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی چھینی جا رہی ہے۔ اسلامی ممالک کی جانب سے موجودہ درپیش حالات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے رہنماؤں نے گذشتہ روز کے واقعات میں ہونے والی جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تمام متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ عالم اسلام رہے ہیں
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔