حکومتِ سندھ کی موثر اور نتیجہ خیز سرینڈر پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، ضیاء لنجار
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیر داخلہ سندھ نے ڈی آئی جی، ایس ایس پی کشمور اور ان کی پوری ٹیم کی شاندار، پیشہ ورانہ اور بے مثال کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی،جبکہ سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پولیس کے شانہ بشانہ کردار کو بھی لائقِ تحسین قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ کی موثر اور نتیجہ خیز سرینڈر پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کے تحت ضلع کشمور میں 26 خطرناک اور مطلوب ڈاکوؤں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ اس سے قبل کل سکھر میں بھی 12 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کیا تھا، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ کچے کے علاقوں میں جاری میگا آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہیں جبکہ ریاستی رِٹ مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے مکمل قیام اور جرائم کے خاتمے تک پولیس، سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ میگا آپریشن مزید تیز، موثر اور فیصلہ کن ہوگا۔ ضیا الحسن لنجار نے جرائم پیشہ عناصر کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکوں سے کہتا ہوں کہ میگا آپریشن کی زد میں آنے کے بجائے سرینڈر کر دیں اور ہتھیار پھینک دیں، حکومتِ سندھ نے امن کا راستہ دکھا دیا ہے، عمل کریں گے تو خوش آمدید کہیں گے، بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کہ ابھی سرینڈر پالیسی سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائی جنکشن بارڈر اور کچہ ایریاز میگا آپریشن کے خصوصی اہداف ہیں اور ڈاکوں، ان کی کمین گاہوں اور سہولت کاروں کا خاتمہ ناگزیر ہے، حکومت سندھ اپنے ٹھوس عزم اور واضح اہداف کے ساتھ آخری ڈاکو کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میگا آپریشن وزیر داخلہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔