خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں اے آئی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق اسکولوں میں پڑھائے جانے والے کمپیوٹر سائنس کے موجودہ نصاب میں اے آئی سے متعلق مواد شامل نہیں جس کے باعث نصاب میں بڑی تبدیلیاں ناگزیر قرار دی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنا کر پڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں اے آئی کی تدریس کے لیے 5 ہزار 525 آئی ٹی لیبارٹریز کی کمی ہے۔ ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 225 جبکہ مڈل اسکولوں میں 3 ہزار 515 آئی ٹی لیب درکار ہیں جو تاحال دستیاب نہیں ہیں۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق اسکولوں میں پڑھائے جانے والے کمپیوٹر سائنس کے موجودہ نصاب میں اے آئی سے متعلق مواد شامل نہیں جس کے باعث نصاب میں بڑی تبدیلیاں ناگزیر قرار دی جا رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت مختلف جماعتوں کے نصاب میں 35 سے 50 فیصد تک اے آئی سے متعلق مواد شامل کیا جائے گا۔
اے آئی کی مؤثر تدریس کے لیے محکمہ تعلیم نے 7 ہزار 555 آئی ٹی اساتذہ کی بھرتی کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ طلبا کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے مطابق اے آئی کو باضابطہ طور پر مارچ 2026ء سے نصاب کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اسکولوں میں کے مطابق اے ا ئی میں اے اے آئی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔