پی پی، نون لیگ، متحدہ نے کراچی کی آبادی کو کم گنا، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
جینے دو کراچی کو مارچ سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ آج بھی شہر کی 50 فیصد آبادی پانی سے محروم ہے، 10،10 سال سے منصوبے چل رہے ہیں، گرین لائن آج تک مکمل نہیں ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور ایم کیو ایم نے کراچی کی آبادی کو بھی کم گنا۔ جینے دو کراچی کو مارچ سے خطاب میں منعم ظفر نے کہا کہ آج بھی شہر کی 50 فیصد آبادی پانی سے محروم ہے، 10،10 سال سے منصوبے چل رہے ہیں، گرین لائن آج تک مکمل نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں لوگ جلتے رہے، لوگ بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے، نہ میئر تھے اور نہ شہر میں وزیر اعلیٰ تھے، گل پلازا میں کیوں فائر نظام کیوں موجود نہیں تھا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ جب سب کچھ جل رہا تھا لیکن فائر بریگیڈ کے پاس پانی اور ڈیزل نہیں تھا، سانحہ گل پلازا کی شفاف جوڈیشل تحقیقات کرائی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔