ڈی جی خان سے بلوچستان جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلوچستان کی کشیدہ صورتحال کے باعث پنجاب بلوچستان سرحدی راستے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کے مطابق بلوچستان جانے والی تمام ٹریفک کو فی الحال روک دیا گیا ہے اور مسافر ڈی جی خان کے راستے بلوچستان نہیں جا سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الصوبائی سرحدی گزرگاہیں بواٹہ، راکھی گاج اور تونسہ موسیٰ خیل روڈ ہر طرح کی ٹریفک کے لیے معطل کر دی گئی ہیں اور کسی بھی گاڑی کو پنجاب سے بلوچستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
واضح رہے کہ کوئٹہ، گوادر، پنجگور سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی کوششیں ناکام بنائی گئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔