جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
کراچی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کراچی صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، کشمیریوں سمیت سب کا شہر ہے۔ شہر کے 2 کروڑ نوجوانوں کو روزگار چاہیے مگر حکمران طبقے کا ایک ایسا اتحاد ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں پر مشتمل ہے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 14 فروری سے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ریلی میں شریک افراد شہر کی امید بن کر سامنے آئے ہیں یہ لوگ کراچی کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، کشمیریوں سمیت سب کا شہر ہے۔ شہر کے 2 کروڑ نوجوانوں کو روزگار چاہیے مگر حکمران طبقے کا ایک ایسا اتحاد ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں پر مشتمل ہے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کے بعد میئر کراچی 23 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے جبکہ لوگ آگ میں جل گئے اور وزیراعظم آج تک کراچی نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کو 42 فیصد ٹیکس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود شہر کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا۔ امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ مہاجروں کو سندھیوں اور سندھیوں کو مہاجروں سے لڑوانے کی کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ عوام کو تقسیم رکھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا واحد حل بااختیار شہری حکومت کا نظام ہے۔ جس کے ذریعے کراچی کو اس کا جائز حق مل سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی طبقے کا کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔