پیپلزپارٹی اور40وڈیروں نے سندھ کو یرغمال بنارکھاہے، قبضے کا یہ نظام ختم کرنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے، پیپلز پارٹی اور40وڈیروں نے سندھ کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ہمیں قبضےکا یہ نظام ختم کرنا ہوگا، لوگ کراچی کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ شہرسندھی، بلوچوں،پختونوں ،کشمیریوں ہزاروالوں کا بھی شہر ہے، شہر کے دو کروڑ نوجوانوں کو روزگا چاہیے، حکمران طبقےکاایک اتحادہے،جو وڈیروں اور جاگیرداروں کا ہے۔یہ بات انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت شارع فیصل پر کراچی کو جینے ود مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے، ہم بااختیار شہری حکومت چاہتے ہیں،شہر کو وفاق کےحوالےکرنا کوئی حل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازا پر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کراچی میں رہتے ہیں لیکن وہ بھی گل پلازا نہیں آئے، وزیراعظم شہباز شریف بھی زخموں پر مرہم رکھنےکراچی نہیں آئے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 14 فروری کو تاریخی دھرنا دیں گے، اس بار سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے تو اختیار لے کر اٹھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نعیم الرحمان
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔