اسٹیج پرقومی اورجماعت اسلامی کے پرچم آویزاں تھے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-01-6
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت و بے حسی ، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حق تلفی ، سنگین مسائل اور شہر کی ابتر حالت کے خلاف اتوار کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میںشاہراہ فیصل نرسری بس اسٹاپ پر بالائی گزر گاہ کے اوپر اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے قائدین نے خطاب کیا۔اسٹیج پر ایک بڑا بینرز لگا ہوا تھا۔جس پر جلی حروف پر تحریر تھاکہ جینے دو کراچی کو‘اسٹیج کے دائیں جانب نہ وفاق نہ صوبہ حل صرف بااختیار شہری حکومت اوربائیں جانب Karachi city govt, Tha only solution تحریر تھا۔ اسٹیج پر قومی پرچم اور جماعت اسلامی کے جھنڈے بھی لگائے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔