نینو سائنسز میں ڈاکٹریٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستانی اسکالر محمد ابراہیم نے ٹرونڈ ہائیم میں نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی NTNU میں نینو سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔ یہ کامیابی ابراہیم کے تعلیمی کیریئر میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے اور نینو ٹیکنالوجی کے بارے میں عالمی سائنسی برادری کی تحقیق کا ایک اہم حصہ ہے۔ محمد ابراہیم کی ڈاکٹریٹ کی اس تحقیق نے نینو میٹریلز کے پیچیدہ اطلاق پر توجہ مرکوز کروائی ہے، اس میں نئی جہتوں کو متعارف کروا کر سکھایا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کو جدید صنعت اور طب میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔تھیسسز کا دفاع بین الاقوامی ماہرین کے ایک پینل کے سامنے کیا گیا، جنہوں نے محمد ابراہیم کے تجربات کی گہرائی اور اس کے نتائج کے عملی مضمرات کی تعریف کی۔محمد ابراہیم کی یہ کامیابی پاکستانی محققین کی بڑھتی ہوئی فہرست میں اضافہ کرتی ہے جو بیرون ملک ہائی ٹیک شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم نینو سائنس کے حل کے قابل توسیع انضمام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تحقیق اور ترقی میں اپنا کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد ابراہیم
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔