پائلر کے تحت کم از کم اجرت کے نفاذ پر اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (PILER) کے زیر اہتمام کانفرنس بعنوان ’’کم از کم اجرت کے نفاذ پر مؤثر عمل درآمد ‘‘ منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے مقررین نے اپنے خطاب کے دوران شدید تشویش کا اظہار کیا مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کے کمزور طبقوں خصوصاً مزدوروں کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہورہے ہیں، سندھ کی 80 فیصد صنعتوں میں محنت کشوں کو کم ازکم اجرت نہیں ملتی اور یہی رجحان ملک بھر میں نظر آتا ہے، یونین سازی ہر شہری کا حق ہونے کے باوجود 98 فیصد مزدور اپنے اس حق سے محروم ہیں، ریاست اپنے شہریوں کو سماجی تحفظ دینے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔
کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ آج سرمایہ دار مزدوروں کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں قدغن لگا کر اربوں روپے کی کرپشن کر رہے ہیں ۔ ایک طرف یہ مزدور کو کم ازکم تنخواہ نہیں دیتے تو دوسری جانب مزدور سے 12 گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی اوور ٹائم کے، سندھ کے سوشل سیکورٹی کے ادارے میں صرف 8 لاکھ محنت کش رجسٹرڈ ہیں مگر یہ فیکٹری مالکان دیگر لاکھوں مزدوروں کو SESSI میں رجسٹرڈ نہیں کرواتے۔ اگر ہم سماجی شعبوں کے مختص بجٹ کی بات کریں تو صحت کے شعبے میں GDP کا0.
کانفرنس کے مطالبات
کم از کم اجرت کا نفاذ فوری طور پرکیا جائے۔
مزدوروں کی تنخواہوں کی ادائیگی بذریعہ چیک کی جائے۔
فیکٹری انسپکشن کے نظام کو بہتر بنایا اور انسپکشن کی نگرانی کے لیے ٹریڈ یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں، لیبر سپورٹ آرگنائزیشن اور مالکان پر مبنی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
انٹرنیشنل برینڈز اپنے سپلائر کو مزدوروں سے متعلق قوانین کا پابند بنائیں۔
کم از کم اجرت کے تعین کے لیے ایک ماہر معیشت کو بطور مشیر ویج بورڈ میں شامل کیا جائے۔
یونین بنانے کی آزادی دی جائے جو کہ آئین کے اندر موجود ہے۔
حکومتی اداروں کو مزدوروں سے متعلق قوانین پر عملدر آمد کرنے کا پابند کیا جائے۔
کانفرنس سے پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر،سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے رہنما حسین نقی، ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور، HRCP کے وائس چیئرپرسن قاضی خضر، ہوم بیسڈ فیڈریشن کی زہرا اکبر، واپڈا یونین کے لطیف نظامانی، اکارڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ، ڈیموکریٹو ورکر یونین CBA کے لیاقت ساہی، LBL کی اینا، ایشیا فلور ویج کی ابرامی، WRC کی عابدہ علی، لیبر رائٹس کی ایکسپرٹ کرن زبیر، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، ریاض حسین بلوچ ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ، وسیم جمال ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز (SESSI)، مزدور رہنما شمیم علی، فرحان حیدر لیبر رائٹس ایکسپرٹ، ڈاکٹر ریاض شیخ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر پائلر اور ساجد جمال ابڑو سیکرٹری لیبرنے خطاب کیا۔
ویب ڈیسک
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کانفرنس کے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔