Jasarat News:
2026-07-24@02:05:06 GMT

پائلر کے تحت کم از کم اجرت کے نفاذ پر اجلاس

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (PILER) کے زیر اہتمام کانفرنس بعنوان ’’کم از کم اجرت کے نفاذ پر مؤثر عمل درآمد ‘‘ منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے مقررین نے اپنے خطاب کے دوران شدید تشویش کا اظہار کیا مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کے کمزور طبقوں خصوصاً مزدوروں کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہورہے ہیں، سندھ کی 80 فیصد صنعتوں میں محنت کشوں کو کم ازکم اجرت نہیں ملتی اور یہی رجحان ملک بھر میں نظر آتا ہے، یونین سازی ہر شہری کا حق ہونے کے باوجود 98 فیصد مزدور اپنے اس حق سے محروم ہیں، ریاست اپنے شہریوں کو سماجی تحفظ دینے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔
کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ آج سرمایہ دار مزدوروں کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں قدغن لگا کر اربوں روپے کی کرپشن کر رہے ہیں ۔ ایک طرف یہ مزدور کو کم ازکم تنخواہ نہیں دیتے تو دوسری جانب مزدور سے 12 گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی اوور ٹائم کے، سندھ کے سوشل سیکورٹی کے ادارے میں صرف 8 لاکھ محنت کش رجسٹرڈ ہیں مگر یہ فیکٹری مالکان دیگر لاکھوں مزدوروں کو SESSI میں رجسٹرڈ نہیں کرواتے۔ اگر ہم سماجی شعبوں کے مختص بجٹ کی بات کریں تو صحت کے شعبے میں GDP کا0.

98 فیصد، تعلیم کا بجٹ 1.56 فیصد اور سماجی تحفظ کے لیے صرف 1.1 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ خطے کے دیگر ممالک سے بھی کم ہے یعنی یہ شعبے حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ کانفرنس کے مقررین نے موجودہ کم از کم اجرت کو پاورٹی ویج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنخواہ عزت نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ناکافی ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں کم از کم تنخواہ کی جگہ Living Wage مقرر کی جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے تمام مسائل کی جڑ لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا اور دوسری جانب جن اداروں کے ذمہ کم ازکم اجرت پر عملدرآمد کروانا ہے وہ اپنے کام میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کرپشن اقربا پروری اور گڈ گورننس کا فقدان مسائل کے حل نہ ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔

کانفرنس کے مطالبات
کم از کم اجرت کا نفاذ فوری طور پرکیا جائے۔
مزدوروں کی تنخواہوں کی ادائیگی بذریعہ چیک کی جائے۔
فیکٹری انسپکشن کے نظام کو بہتر بنایا اور انسپکشن کی نگرانی کے لیے ٹریڈ یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں، لیبر سپورٹ آرگنائزیشن اور مالکان پر مبنی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
انٹرنیشنل برینڈز اپنے سپلائر کو مزدوروں سے متعلق قوانین کا پابند بنائیں۔
کم از کم اجرت کے تعین کے لیے ایک ماہر معیشت کو بطور مشیر ویج بورڈ میں شامل کیا جائے۔
یونین بنانے کی آزادی دی جائے جو کہ آئین کے اندر موجود ہے۔
حکومتی اداروں کو مزدوروں سے متعلق قوانین پر عملدر آمد کرنے کا پابند کیا جائے۔
کانفرنس سے پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر،سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے رہنما حسین نقی، ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور، HRCP کے وائس چیئرپرسن قاضی خضر، ہوم بیسڈ فیڈریشن کی زہرا اکبر، واپڈا یونین کے لطیف نظامانی، اکارڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ، ڈیموکریٹو ورکر یونین CBA کے لیاقت ساہی، LBL کی اینا، ایشیا فلور ویج کی ابرامی، WRC کی عابدہ علی، لیبر رائٹس کی ایکسپرٹ کرن زبیر، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، ریاض حسین بلوچ ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ، وسیم جمال ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز (SESSI)، مزدور رہنما شمیم علی، فرحان حیدر لیبر رائٹس ایکسپرٹ، ڈاکٹر ریاض شیخ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر پائلر اور ساجد جمال ابڑو سیکرٹری لیبرنے خطاب کیا۔

ویب ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کانفرنس کے کے لیے

پڑھیں:

حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس

سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔  جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ