ہوم نیٹ پاکستان کی گل پلازہ کے المناک واقعے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہوم نیٹ پاکستان (HNP) گل پلازہ، کراچی میں پیش آنے والے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتا ہے، جس نے ایک بار پھر مزدوروں کو درپیش سنگین پیشہ ورانہ صحت و سلامتی (OSH) کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے، خصوصاً ان افراد کو جو غیر محفوظ اور غیر منظم تجارتی اداروں میں کام کرتے ہیں۔ یہ واقعہ بلدیہ فیکٹری سانحے کے بعد ایک اور دردناک یاد دہانی ہے کہ سندھ بھر میں کام کی جگہوں پر حفاظتی نظام اور قوانین کے نفاذ میں مسلسل ناکامی موجود ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق مزدور انتہائی خطرناک حالات میں کام کر رہے تھے، جہاں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، ہنگامی راستے بند تھے، اور آگ یا کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ اس قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہے اور یہ عمارت مالکان، آجرین اور متعلقہ اداروں کی جانب سے لیبر قوانین، بلڈنگ کوڈز اور پیشہ ورانہ حفاظتی معیارات پر عملدرآمد میں مسلسل ناکامی کی عکاس ہے۔
ہوم نیٹ پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ تجارتی پلازوں میں کام کرنے والے مزدور سندھ شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جو کام کی جگہوں پر حفاظتی جائزوں، فائر سیفٹی سسٹمز، کھلے اور قابلِ رسائی راستوں، اور لازمی معاوضے کے نظام پر سختی سے عملدرآمد کا تقاضا کرتا ہے۔ ان قانونی ذمہ داریوں کے باوجود، اس ایکٹ اور متعلقہ تجارتی قوانین کے تحت مزدوروں، ملازمین اور حتیٰ کہ مالکان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کمزور ہیں۔ اس خلا کی وجہ اداروں کی ناقص رجسٹریشن، مزدوروں کی سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی میں عدم شمولیت اور خطرات کے تجزیے و معاوضے کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔ اس المناک سانحہ پر باضابطہ، غیر باضابطہ اور گھریلو سطح پر کام کرنے والے لاکھوں مزدور، جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے، معاونت کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی، کمزور نگرانی اور قوانین کے غیر مستقل نفاذ پر شدید مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ گل پلازہ کا واقعہ ایک واضح انتباہ ہے کہ تمام کام کی جگہوں، دکانوں، یونٹس، تجارتی پلازوں اور گھریلو پیداواری مراکز کو باضابطہ معاہدوں، سماجی تحفظ اور قانونی حفاظتی ضمانتوں کے ذریعے محفوظ بنایا جائے۔
ہوم نیٹ پاکستان کے مطالبات:
گل پلازہ واقعے کی وجوہات جاننے اور ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
کام کی جگہوں کی حفاظت میں غفلت برتنے والے عمارت مالکان، دکانداروں اور متعلقہ اداروں کا سخت احتساب کیا جائے۔
متاثرہ تمام مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری معاوضہ اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
کراچی میں تمام تجارتی اور صنعتی عمارتوں کا فوری معائنہ کیا جائے تاکہ OSH معیارات اور شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ پر عملدرآمد کی تصدیق ہو سکے۔
ہوم نیٹ پاکستان متاثرہ مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور حکومتِ سندھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہوم نیٹ پاکستان کام کی جگہوں گل پلازہ کرتا ہے میں کام کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔