بنگلہ دیش اور امریکا 9 فروری تک دوطرفہ تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیں گے، سیکریٹری تجارت
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
بنگلہ دیش اور امریکا نے 9 فروری کو دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے تاکہ ٹیرف مسائل حل کیے جاسکیں، یہ بات بنگلہ دیش کے سیکریٹری تجارت محبوب الرحمان نے اتوار کو بتائی۔
سیکریٹری تجارت نے کہا کہ معاہدے کا مسودہ تیار ہے اور منظوری کے لیے خلاصہ بھی بھیجا جا چکا ہے تاکہ یہ معاہدہ طے شدہ تاریخ کو واشنگٹن میں دستخط کے لیے پیش کیا جاسکے۔ ٹیرف کی آخری شرحیں دستخط سے قبل طے کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے تجارتی مذاکرات، بنگلہ دیش کے لیے نئے مواقعوں کے امکانات روشن
انہون نے کہا کہ بات چیت کا محور امریکی دوطرفہ ٹیرف ہے، جو بنگلہ دیشی مصنوعات پر عائد ہے۔ واشنگٹن نے ابتدا میں 37 فیصد ٹیرفز لگائے تھے، بعد میں انہیں 35 فیصد تک کم کیا اور گزشتہ جولائی میں مذاکرات کے بعد 20 فیصد کر دیا۔ یہ کمی اس شرط کے ساتھ کی گئی کہ ڈھاکا دوطرفہ تجارتی فرق کو کم کرنے کے اقدامات کرے۔
محبوب الرحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش اس وقت 20 فیصد دوطرفہ ٹیرف کا سامنا کررہا ہے، جو کئی دیگر ممالک کے لیے بھی عائد ہے اور محتاط امید ظاہر کی کہ اس شرح کو مزید کم کیا جاسکتا ہے۔
بنگلہ دیش نے بہتر رسائی کے لیے رعایتیں پیش کی ہیں۔ بات چیت میں امریکی کپاس سے بنے گارمنٹس کے ڈیوٹی فری داخلے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ڈھاکا نے پہلے ہی امریکی کپاس کی درآمدات میں اضافہ کیا ہے تاکہ تجارتی توازن بہتر بنایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے مابین بارہویں دفاعی مذاکرات کا آغاز
وسیع تجارتی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے سیکریٹری تجارت نے کہا کہ بھارت کے حالیہ یورپی یونین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کے گارمنٹس سیکٹر نے 45 سال میں مضبوط صلاحیت پیدا کی ہے اور اب بھی دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔
بنگلہ دیش کم ترقی یافتہ ملک کے درجے سے ترقی یافتہ ہونے کی تیاری کررہا ہے، اس لیے ڈھاکا فری ٹریڈ ایگریمنٹس کو تیز کررہا ہے۔ جاپان کے ساتھ بات چیت مکمل ہے، دستخط 6 فروری کو ہونے ہیں، جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور یورپی یونین کو تجاویز بھیج دی گئی ہیں۔
محبوب الرحمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ سیول ایئر کرافٹ کی خریداری کے لیے بوئنگ کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے تاکہ بنگلہ دیش کی ہوا بازی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے، تاہم فوجی طیارے تجارتی مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا امریکا کو پیغام، غزہ مشن میں شامل ہونے پر آمادگی
بنگلہ دیش کا مقصد امریکی ساتھ تقریباً 6 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے، درآمدات میں 12 سے 18 ماہ کے دوران اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ برآمدات خاص طور پر گارمنٹس میں اضافہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ ٹیرف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ ٹیرف سیکریٹری تجارت بنگلہ دیش نے کہا کہ ہے تاکہ بات چیت کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔