NHA، شاہراہوں کے اطراف تجارتی سرگرمیاں ریگولیٹ کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے ملک بھر کی قومی شاہراہوں کے دونوں اطراف تجارتی سرگرمیوں کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری مواقع میں اضافہ، شفافیت کو یقینی بنانا اور سرکاری ریونیو میں بہتری لانا ہے۔
این ایچ اے کے مطابق شاہراہوں کے اطراف رائٹ آف وے (ROW) مینجمنٹ کو مرحلہ وار آؤٹ سورس کیا جائے گا، جس کے تحت عوام اور نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایات پر ٹول پلازوں کے بعد آر او ڈبلیوز کے لیے بھی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اتھارٹی نے بزنس سرگرمیوں میں وسعت اور شفاف طریقہ کار کو یقینی بنانے کے لیے بڑے قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت تجاوزات کے خاتمے، ریونیو میں اضافے اور خلاف ضابطہ سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
این ایچ اے کے مطابق قومی شاہراہوں پر قائم ہوٹلز اور پیٹرول پمپس سے این او سی فیس اور سالانہ کرایوں کی وصولی بھی آؤٹ سورس کی جائے گی۔ رائٹ آف وے مینجمنٹ کے ذریعے ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
آر او ڈبلیوز کے دائرہ کار میں کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، لسبیلہ، بھکر، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، لاہور، وزیر آباد، راولپنڈی، پشاور، کوہاٹ، ایبٹ آباد، بٹ خیلہ اور ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف علاقے شامل ہیں۔ قومی شاہراہ این 5 سے این 80 تک کے اطراف کی آر او ڈبلیوز کو لیز پر دیا جائے گا۔
پیپرا رولز اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ نجی شعبے کو یہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ پری کوالیفائیڈ فرموں کی فنانشل بڈز 25 فروری 2026 کو کھولی جائیں گی، جبکہ کم از کم 300 ملین روپے سالانہ نیٹ مالیت رکھنے والی فرموں کے لیے یہ سرمایہ کاری کا اہم موقع قرار دیا گیا ہے۔
این ایچ اے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا بلکہ نجی شعبے کو آگے آنے کا موقع ملے گا، ادارے کے ریونیو میں بہتری آئے گی اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے وژن کے مطابق این ایچ اے کو ایک جدید اور خود کفیل ادارہ بنانے کی سمت میں یہ اہم پیش رفت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔