اینگرو فرٹیلائزر کی پالیسیوں سے صنعتی ماحول متاثر ہو رہا ہے‘شمس الرحمن سواتی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-08-5
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اینگرو فرٹیلائزر کی موجودہ پالیسیوں اور طرزعمل کے باعث صنعتی ماحول متاثر ہو رہا ہے جبکہ اس معاملے میں ڈی جی لیبر سندھ اور ڈائریکٹر لیبر سکھر کا کردار غیر جانبدار نظر نہیں آ رہا۔انہوں نے کہا کہ اینگرو فرٹیلائزر کانٹریکٹر ورکرز یونین کے جائز اور قانونی مطالبات طویل عرصے سے زیر التواء ہیں۔ ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ یکساں سلوک نہ ہونا تشویشناک ہے، جہاں دو سو کنٹریکٹ ملازمین کو تنخواہوں میں اضافہ دیا گیا جبکہ ساڑھے بارہ سو کنٹریکٹ ملازمین کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا، جو مساوات کے اصول کے منافی ہے۔شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق غیر جانبدار کردار ادا کریں گے اور یونین و ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ یونین نمائندگان پر دباؤ اور غیر ضروری مداخلت کے تاثر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے گریز ضروری ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر محنت سندھ اور سیکریٹری محنت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ لیبر قوانین پر من و عن عمل ہو اور تمام فریقین کے ساتھ منصفانہ اور شفاف رویہ اختیار کیا جائے۔صدر نیشنل لیبر فیڈریشن نے کہا کہ اینگرو فرٹیلائزر انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایک ہی ادارے میں مختلف معیارات قائم کرنے سے اجتناب کرے، تمام کنٹریکٹ ملازمین کو برابری کی بنیاد پر حقوق فراہم کرے اور حقیقی نمائندہ یونین کے کردار کا احترام کرے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کے مزدور اور محنت کش تنظیمیں اینگرو فرٹیلائزر کے کنٹریکٹ ورکرز کے جائز حقوق کی حمایت کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ باہمی افہام و تفہیم اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مسئلے کا جلد حل نکالا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اینگرو فرٹیلائزر کنٹریکٹ ملازمین نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔