data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260202-08-18
کوئٹہ (نمائندہ جسارت) بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد کوئٹہ میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جب کہ موبائل فون انٹر نیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق شہر کے پوش علاقوں کے راستے سیل کر دیے گئے، امن و امان بحال کرنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں میں پولیس اور سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔شہر بھر میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران درجنوں مشکوک افراد حراست میں لیے گئے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں 17 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے جب کہ 145 دہشت گردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا دہشت گردوں نے 31 معصوم شہریوں کو شہید کیا، گوادر میں دہشت گردوں نے 5خواتین اور 3بچوں کو شہید کیا، شہید ہونے والی فیملی کا تعلق خضدار سے تھا اور وہ بلوچ تھے، یہ خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن یہ بلوچ نہیں دہشت گرد ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان سر زمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اطلاعات ہیں کہ ان دہشت گردوں کے ساتھ افغانی بھی شامل ہیں، آج بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر افغانستان میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دہشت گرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کردیا تھا، یہ لوگ بھارت کے ایما پر ایسے واقعات کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب پاکستان ٹیک آف کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کے لیے بھی سرینڈر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہزار سال تک ان کے خلاف جنگ لڑیں گے، ہمارا خون سستا نہیں ہے، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے، ہم بلوچستان کو ان کے لیے جہنم بنا دیں گے۔

کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع