کچھ یورپی ممالک دہشت گردوں کی پیدائش اور افزائش کے مراکز ہیں، سپاہ پاسداران
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی" کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے کے معاندانہ اور مضحکہ خیز اقدام کے بعد، ہم عظیم ایرانی قوم کی حمایت، ہمدردی اور دانشمندانہ موقف کی وسیع لہرکو سلام پیش کرتے ہیں اور گہرے شکر کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ قومی یکجہتی نظام کے سماجی سرمائے کے بارے میں ایرانی قوم کی مشترکہ فہم اور اہم تاریخی موڑ پر اس کے فیصلہ کن کردار کا واضح اور شاندار مظہر ہے۔ خصوصی رپورٹ:
اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے بیان میں کہا ہے کہ بعض یورپی ممالک دہشت گرد گروہوں کی افزائش کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔ تسنیم نیوز ڈیفنس گروپ کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے کے معاندانہ اور غیر تعمیری اقدام کے بعد پاسداران انقلاب اسلامی کی طرف سے جاری کیا گیا بیان حسب ذیل ہے:
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
یورپی یونین کی طرف سے "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی" کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے کے معاندانہ اور مضحکہ خیز اقدام کے بعد، ہم عظیم ایرانی قوم کی حمایت، ہمدردی اور دانشمندانہ موقف کی وسیع لہرکو سلام پیش کرتے ہیں اور گہرے شکر کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ قومی یکجہتی نظام کے سماجی سرمائے کے بارے میں ایرانی قوم کی مشترکہ فہم اور اہم تاریخی موڑ پر اس کے فیصلہ کن کردار کا واضح اور شاندار مظہر ہے۔ ایک ایسا سرمایہ جس نے ہمیشہ چیلنجوں پر قابو پانے اور اس سرزمین کے دشمنوں کو شکست دینے کی راہ ہموار کی ہے۔ اس تناظر میں، اور وطن عزیز کے جامع دفاع اور وطن عزیز کی سلامتی اور امن کی حفاظت کے سنجیدہ مشن کو انجام دینے میں "سپاہ پاسداران" کے پختہ عزم اور پختہ ارادے پر زور دیتے ہوئے، درج ذیل نکات پر زور دیا جاتا ہے:
1) یورپی یونین کا بیان ایک غلط اقدام ہے، جس میں قانونی اور سیاسی اعتبار کا فقدان ہے، اور بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں اور منطق کے خلاف ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی مرضی اور مشن کو نقصان نہیں پہنچتا ہے بلکہ اس سے اندرونی ہم آہنگی اور ملک کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے قومی عزم میں اضافہ ہوا ہے۔
2) یورپی یونین کا یہ طرز عمل عملی طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے ساتھ ایک واضح ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا مطلب بعض علاقائی بحران پیدا کرنے والے عناصر بالخصوص سفاک اور دہشت گرد صیہونی حکومت کے عدم استحکام کے کردار کو نظر انداز کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف علاقائی امن و سلامتی میں معاون ثابت ہوتے ہیں بلکہ تصادم کو تقویت دے کر تعمیری بات چیت اور تعاون کی راہ کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
3) پاسداران انقلاب اسلامی گزشتہ دہائیوں سے ہمیشہ ایرانی قوم کی دفاعی ڈھال اور محافظ رہی ہے اور اس نے ملک کی آزادی، سلامتی اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ محرومیوں کے خاتمے اور عوام کو خدمات میں ایک لمحے کے لیے بھی دریغ نہیں کیا ہے۔
یہ ایک سنجیدہ سوال ہے، یورپی یونین کے رکن ممالک کس منطق کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایرانی عوام کی سلامتی کے دفاع کے لئے 18,000 مظلوم ایرانیوں کو شہید کرنیوالے علیحدگی پسندوں اور منافقین جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر کاروائیوں اور داعش کے ساتھ جنگ کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہیں؟
سپاہ پاسداران انقلاب کی طرف سے مسلح افواج کے دیگر بازووں کے ساتھ آٹھ سالہ اور 12 روزہ مسلط کردہ جنگوں میں اسلامی وطن کے جائز دفاع کو دہشت گردی کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟ اور کس منطق سے ملک کی تعمیر، محرومیوں کو دور کرنے، قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور وسیع بیماریوں میں لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد کرنے اور سڑکوں، پلوں، ڈیموں، پاور پلانٹس، اسکولوں کی تعمیر، اور ہزاروں دیگر سماجی سرگرمیوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی مثالیں تصور کیا جاسکتا ہے؟
4) زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ یورپی ممالک مختلف دہشت گرد گروہوں کے لیے اہم افزائش گاہیں اور پناہ گاہیں بن چکے ہیں، جن میں منافقین خلق، داعش، اور علیحدگی پسند تحریکوں کی تنظیم شامل ہیں، اور انھیں مختلف قسم کے ہتھیار، میڈیا اور لاجسٹک مدد فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک سے عالمی رائے عامہ کی توقع یہ تھی کہ وہ ان دوہرے رویوں کے بجائے صیہونی دہشت گرد حکومت کے غزہ کے اہم انفراسٹرکچر بشمول ہسپتالوں، اسکولوں، پانی اور بجلی کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے اور 70 ہزار سے زائد افراد کی شہادت اور تقریباً 700 سے زائد خواتین اور بچوں کے زخمی ہونے کی صیہونی دہشت گرد حکومت کے گھناؤنے جرائم کی واضح اور سختی سے مذمت کریں گے۔
5) سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایران کے معززین، اعلیٰ مذہبی قیادت، تینوں طاقتوں کے سربراہان، مجلس خبرگان، شوریٰ تشخیص مصلحت نظام،سیکورٹی کونسل کے اراکین، حکومتی ذمہ داروں، مجلس شوریٰ کے نمائندوں، نماز جمعہ کی انجمن کے مرکزی سیکرٹری جنرل، نماز جمعہ کے اماموں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے۔ افواج، اسلامی جمہوریہ ایران کی فورسز، قومی سلامتی کمان، مسلح افواج کے کمانڈرز اور یونٹس، اسلامی جمہوریہ ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن، وزارت انٹیلی جنس، وزارت دفاع اور مسلح افواج کی معاونت، وزارت خارجہ، سیاسی ادارے، گروہ اور تحریکیں، میڈیا مسئولین اور کارکنان جنہوں نے ایک بار پھر یورپی یونین کے موقف کیخلاف سیاسی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذمت کی ہے۔ یہ حمایت، ہم آہنگی اور غیر ملکی دباؤ کے خلاف قومی یکجہتی، قومی سلامتی اور خودمختاری کی حفاظت کرنے والے اداروں کے ساتھ قوم کے گہرے رشتے کا واضح ثبوت ہے۔
6) آخر میں عالم انسانیت کے واحد نجات دہندہ، امام مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت باسعادت اور عشرہ فجر، انقلاب اسلامی کی شاندار فتح کی سالگرہ کے موقع پر تمام ایرانی عوام اور دنیا بھر میں اسلامی انقلاب کے حامی تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں :
"سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی" "رہبریت کے سپاہی"، "قوم کے خادم"، "دوسری مسلح افواج کے ہم رزم" اور "محبوب اور قابل فخر ایران" کے محافظ ہیں اور خدا تعالی کی مدد و نصرت، امام زمانہ کی عنایت و فیض نظر اور ہم پیارے اور عظیم رہبر امام خامنہ ای کی پر نور قیادت کے سائے میں اسلامی وطن کے دفاع اور ایران کے عظیم عوام کی سلامتی، امن اور عزت کے تحفظ میں اپنے اہم مشن کو انجام دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایرانی قوم کی یورپی ممالک یورپی یونین مسلح افواج کی طرف سے کرتے ہیں ہیں اور کے ساتھ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں