کراچی، جماعت اسلامی کا بیان مسترد، سندھ حکومت کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
کراچی:
ترجمان سندھ حکومت سمعتا افضال سید نے گل پلازہ سانحے پر جماعت اسلامی کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس المناک واقعے پر سیاست کرنا افسوسناک اور غیر ذمے دارانہ طرزِ عمل ہے۔
اپنے بیان میں سمعتا افضال سید نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو بلاجواز طور پر ذمے دار ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے اور اس طرح کے الزامات محض سیاسی مقاصد کیلئے لگائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ گل پلازہ سانحے کی شفاف تحقیقات کی جا چکی ہیں اور واقعے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
سانحہ گل پلازہ انکوائری؛ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کا گورنر کے پرنسپل سیکریٹری کو خط کا جواب
ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کسی اصولی موقف کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے کہ وہ لاشوں اور سانحات پر سیاست کرتی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔
سمعتا افضال سید نے کہا کہ سندھ حکومت سانحات کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سندھ حکومت
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز