غزہ میں امن کی ہر بات محض ایک فریب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 71 ہزار تسلیم کرنا ایک طویل انکار کے بعد سامنے آنے والا وہ سچ ہے جسے دنیا پہلے ہی جانتی تھی۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز نے اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ میں ہونے والے اس جانی نقصان کو مان لیا ہے، حالانکہ ماضی میں وہ غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کو مسلسل ناقابل ِ اعتبار قرار دیتا رہا ہے، یہ وہی اعداد و شمار ہیں جنہیں غزہ کی وزارتِ صحت مسلسل پیش کرتی رہی اور جنہیں اسرائیل برسوں سے ’’ناقابل ِ اعتبار‘‘ کہہ کر مسترد کرتا رہا، مگر اقوامِ متحدہ اور عالمی امدادی ادارے ابتدا ہی سے انہیں قابل ِ اعتماد قرار دیتے آئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق شہداء کی تعداد 71,667 ہو چکی ہے اور ان میں سے 90 فی صد سے زائد کی شناخت ناموں اور شناختی نمبروں کے ذریعے ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب شناخت موجود ہے، لاشیں موجود ہیں، خاندان موجود ہیں، تو پھر دنیا کو مزید کس ثبوت کی ضرورت ہے؟ اس اعتراف کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ غزہ پر آگ اور خون کی بارش رکی نہیں ہے، سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ 112 ویں روز بھی جاری ہے۔ جمعہ کی علی الصباح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ کسی عسکری تنصیب پر نہیں بلکہ ایک محصور کیمپ پر کیا گیا جہاں پہلے ہی زندگی مشکل ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات کہ ’’حماس جلد ہتھیار ڈالنے جا رہی ہے‘‘ ایک ایسی بات معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد اصل انسانی المیے سے توجہ ہٹانا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران دیے گئے اس بیان کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے اگرچہ اس دعوے کی تائید کی ہے، مگر وقت اور طریقۂ کار کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کی جانب سے حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی پروگرام کی بات بھی سامنے آئی، جس میں ہتھیار ڈالنے والوں کو رقم، روزگار اور عام معافی دینے کا منصوبہ شامل ہے۔ یہ تمام ٹرمپ کے روزانہ دہرائے جانے والے دعوے اپنی جگہ، مگر اصل اور کڑوا سوال یہ ہے کہ کیا غزہ کے ملبے تلے دبی انسانیت بھی کسی عالمی منصوبے کا حصہ ہے؟ کیا وہ دس ہزار فلسطینی، جن کی لاشیں آج تک نکالی نہیں جا سکیں، کسی امن فارمولے، کسی سفارتی مسودے یا کسی بین الاقوامی ضمیر یا نام نہاد اسلامی ممالک کی ترجیحات فہرست میں کہیں درج ہیں؟ اسی پس منظر میں غزہ گورنری میں سول ڈیفنس کے سربراہ بریگیڈیئر رائد الدہشان کے انکشافات اس جنگ کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کرتے ہیں جس پر عالمی میڈیا کم ہی بات کرتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں ملبے تلے دبے تقریباً دس ہزار شہداء کی لاشیں جدید آلات اور بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث نکالی نہیں جا سکیں۔
یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم جرم ہے۔ اسرائیل کی جانب سے بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ریسکیو آلات کے داخلے پر پابندی نے اس انسانی المیے کو برسوں پر محیط ایک اذیت میں تبدیل کر دیا ہے اور دنیا صرف باتیں کرنے میں لگی ہے۔ رائد الدہشان کے مطابق اگر ضروری وسائل فراہم کر دیے جائیں تو لاشوں کو نکالنے کا یہ عمل تین ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ کام دس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک پھیل سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کو دفنانے، ان پر فاتحہ پڑھنے اور غم کو کسی انجام تک پہنچانے کے حق سے بھی محروم رہیں گے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنگ سے قبل بھی غزہ کا سول ڈیفنس ادارہ صرف پینتالیس فی صد صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا تھا، جس کی بنیادی وجہ سترہ برس سے جاری محاصرہ اور جدید آلات کی عدم اجازت تھی۔ حالیہ جنگ نے اس ادارے کو مزید تباہ کر دیا ہے۔ رائد الدہشان کے مطابق سول ڈیفنس اپنے پچاسی فی صد آلات سے محروم ہو چکا ہے اور اب محض پانچ سے سات فی صد صلاحیت کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے۔ غزہ گورنری جیسے گنجان آباد علاقے میں جہاں جنگ سے قبل جدید فائر بریگیڈ گاڑیوں اور ایمبولینسز کا پورا بیڑا موجود تھا، آج صرف ایک فائر بریگیڈ گاڑی، ایک ریسکیو گاڑی اور ایک ایمبولینس باقی رہ گئی ہے۔ امدادی اہلکار اکثر ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں، وہ ملبے تلے دبے افراد کی آہیں سنتے ہیں مگر انہیں بچانے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ منظر کسی فلم کا نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی زندہ حقیقت ہے۔ اس جنگ کی انسانی قیمت صرف عام شہریوں نے ہی ادا نہیں کی، بلکہ سول ڈیفنس کے اہلکار بھی اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ اب تک ایک سو بیالیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت ایسے ماہرین کی تھی جن کے پاس پندرہ سے تیس سال کا تجربہ تھا۔ تین سو باون اہلکار شدید زخمی ہو چکے ہیں، کئی مستقل معذوری کا شکار ہیں۔ یہ سب اس کے باوجود کہ سول ڈیفنس کے اہلکار جنیوا کنونشنز کے تحت محفوظ سمجھے جاتے ہیں، فلورو سینٹ وردیاں پہنتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ پیشگی رابطے میں ہوتے ہیں۔ غزہ میں سول ڈیفنس کے تمام سترہ مراکز مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ غزہ شہر کے پانچ بڑے مراکز ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ رفح میں آبادی کے انخلا کے باعث سرگرمیاں تقریباً معطل ہیں اور اہلکاروں کو خان یونس اور وسطی علاقوں میں ضم کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں اسرائیل کی جانب سے رفح گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان، دو برس سے بند اس واحد زمینی راستے کا جزوی کھلنا اس محاصرے کو ختم نہیں کرتا جس نے غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ آج غزہ کا اصل المیہ صرف شہادتوں کی تعداد نہیں بلکہ وہ انسان اور ان کا وقار ہے جو ملبے تلے دب چکا ہے۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کی لاشوں کے انتظار میں برسوں گزار دیں گی، وہ باپ جو شناختی نشانات کے سہارے ہڈیوں کو پہچانیں گے، اور وہ بچے جو غیر محفوظ عمارتوں اور خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ ٔ فکر ہے۔ کیا 71 ہزار کا اعتراف کافی ہے؟ کیا دس ہزار ملبے تلے دبی لاشیں کسی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ناکافی ہیں؟ جب تک جنگ بندی محض کاغذی بیانات سے نکل کر عملی حقیقت نہیں بنتی، جب تک امدادی اداروں کو آزادانہ کام کی اجازت نہیں دی جاتی، اور جب تک اس نسل کشی کا احتساب نہیں ہوتا، غزہ میں امن کی ہر بات محض ایک فریب ہی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سول ڈیفنس کے کی جانب سے نہیں بلکہ ملبے تلے کے مطابق یہ ہے کہ چکے ہیں
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین