بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ لوگوں کی محرومی نہیں، مصالحتی پالیسی کی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہوا، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ لوگوں کی محرومی نہیں، جبکہ لاپتا افراد کا معاملہ تشدد کو جسٹیفائی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگرد جب بھی شہروں میں کارروائی کرتے ہیں تو انسانوں کو ڈھال بنا لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ نکال لی جائےگی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
انہوں نے بتایا کہ نوشکی میں کومبنگ آپریشن اب بھی جاری ہے، جبکہ دیگر شہروں میں آپریشن ختم ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کی تعداد 4 سے 5 ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی، ہمارے آپریشن کی وجہ سے حالیہ دہشتگرد حملوں کی شدت کم رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا اور 2018 سے پہلے ریاست کی پالیسی مصالحت کی نہیں تھی۔
سرفراز بگٹی نے بین الاقوامی میڈیا سے درخواست کی کہ دہشتگردوں کو دہشتگرد کہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق رائے تھا۔
انہوں نے بتایا کہ 31 سویلین اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، دہشتگردوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 بھی نہیں تھی۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر یہ سیاسی مسئلہ ہوتا تو بات چیت سے حل ہو جاتا، لیکن یہ معاملہ سیاسی نہیں ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑی دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد
سرفراز بگٹی نے کہا کہ لاپتا افراد کا معاملہ تشدد کو جسٹیفائی کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں، خیبرپختونخوا میں بھی لاپتا افراد کا مسئلہ ہے، لیکن شور زیادہ بلوچستان میں مچایا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کو 2 سے 3 فیصد سے زیادہ عوام کی حمایت حاصل نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دہشتگردی میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان وی نیوز بلوچستان میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے کی وجہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز