Jasarat News:
2026-06-02@22:14:48 GMT

مہنگا سونا یعنی ڈوبتے سودی نظام کی نوید

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ عجب اتفاق نہیں کہ جس دور میں دنیا خود کو ٹیکنالوجی، ترقی اور خوشحالی کے بلند ترین مقام پر کھڑا سمجھ رہی تھی، اسی دور میں ایک خاموش سی خبر بار بار سرخیوں میں آنے لگی کہ سونا تیزی کے ساتھ مہنگا ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ خبر زیورات، شادیوں اور عام آدمی کی قوتِ خرید سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ محض بازار کی نہیں بلکہ تاریخ کے بدلتے ہوئے رُخ کی خبر ہے۔ دراصل مہنگا ہوتا ہوا سونا انسانیت کو خبردار کر رہا ہے کہ جس سودی اور ظالمانہ نظام پر معیشت، ریاست اور مستقبل کی عمارت کھڑی کی گئی تھی، وہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے، اور سرمایہ دارانہ نظام کے ستون اب اپنے ہی بوجھ سے لرزنے لگے ہیں۔ سونے کی بڑھتی قیمت عام آدمی کے لیے بظاہر تشویش کا باعث ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ ہر دور میں کسی بڑے معاشی موڑ کی تمہید رہی ہے۔ جب کاغذی پیسہ بے وزن ہونے لگتا ہے، جب وعدوں اور قرضوں پر کھڑی معیشت اعتماد کھو بیٹھتی ہے، جب سود انسان اور ریاست دونوں کی گردن میں غلامی کا طوق بن جائے، تب انسان فطری طور پر اس شے کی طرف لوٹتا ہے جو طاقت، سیاست اور جبر سے آزاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا ڈالر، بانڈز اور عالمی مالیاتی اداروں کے وعدوں سے ہٹ کر سونے کی طرف دیکھ رہی ہے۔

اس عالمی بحران کی جڑ سودی نظام ہے، ایسا نظام جو بظاہر ترقی اور سرمایہ کاری کا نام لے کر آیا مگر درحقیقت سماج کے اندر ظلم کی جڑیں مضبوط کرتا چلا گیا۔ قرآنِ مجید نے سود کے بارے میں جو سخت ترین الفاظ استعمال کیے ہیں وہ کسی اور معاشی برائی کے لیے نہیں ملتے۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ جو لوگ سود سے باز نہیں آتے وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ محض ایک مذہبی تنبیہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک واضح معاشی انتباہ ہے کہ سود ایسا ظالمانہ نظام ہے جو بربادی، نفرت اور تباہی کو جنم دیتا ہے۔ قرآن نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دے کر واضح کر دیا کہ محنت، رسک اور پیداوار پر مبنی کمائی فطری اور عادلانہ ہے، جبکہ بغیر محنت دوسروں کے خون پسینے سے منافع کمانا سراسر ظلم ہے۔ رسول اکرمؐ نے سود لینے والے، دینے والے، اس کا حساب لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی تاکہ یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ سود محض فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی جرم ہے۔

سود کے نتیجے میں دولت چند ہاتھوں میں قید ہو جاتی ہے، غریب مقروض در مقروض ہوتا چلا جاتا ہے، ریاستیں سودی قسطیں ادا کرنے کے لیے تعلیم، صحت اور فلاح پر سمجھوتا کرتی ہیں، خاندانی نظام دباؤ کا شکار ہوتا ہے اور معاشرہ طبقاتی تصادم کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہی وہ منظر ہے جو آج عالمی سطح پر نمایاں ہے اور اسی لیے انسان کسی پائیدار اور منصفانہ متبادل کی تلاش میں ہے۔ اسی حقیقت کی نشاندہی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی تحریروں میں نہایت وضاحت سے کی۔ ان کے نزدیک سود محض ناجائز منافع نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی ظلم ہے جو سماج کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سودی نظام میں سرمایہ خطرے سے آزاد ہو جاتا ہے جبکہ محنت، تجارت اور پیداوار کا سارا بوجھ کمزور طبقے پر آ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ سید مودودیؒ کے نزدیک اسلامی معیشت کی بنیاد شراکت، عدل اور ذمے داری پر ہے، جہاں نفع بھی مشترک ہو اور نقصان بھی، اور جہاں دولت چند خزانوں میں قید ہونے کے بجائے پورے معاشرے میں گردش کرے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس مغربی دنیا نے سودی سرمایہ داری کو عروج تک پہنچایا، وہی دنیا آج خاموشی سے اس کے متبادل کی تیاری بھی کر چکی ہے۔ برطانیہ، یورپ اور امریکا میں اسلامی بینکاری اور سود سے پاک مالیاتی مصنوعات کا دائرہ پھیل رہا ہے۔ مغربی بینک اسلامی ونڈوز کھول رہے ہیں، حکومتیں شراکتی فنانس کے ماڈلز کو قانونی تحفظ دے رہی ہیں، مگر اس حقیقت کا علانیہ اعتراف نہیں کیا جا رہا کہ سودی نظام پائیدار نہیں رہا۔ عملی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ متبادل کی ضرورت کو وہ خود بھی محسوس کر چکے ہیں۔ اسلامی معاشی نظام کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ دولت کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھتا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، وراثت اور شراکتی تجارت کے اصول دولت کے بہاؤ کو نچلی سطح تک پہنچاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سلطنت ِ عثمانیہ جیسے ادوار میں سود سے پاک معیشت نے سماجی استحکام پیدا کیا، جہاں غریب ریاست پر بوجھ نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری تھا اور دولت کی گردش نے طبقاتی خلیج کو جنم نہیں لینے دیا۔

آج جب دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور ڈالر کی گرفت کمزور ہو رہی ہے، تو سونے کا مہنگا ہونا محض پریشانی نہیں بلکہ ایک خوشخبری ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانوں کا بنایا ہوا ظالمانہ اور ناپاک سودی نظام اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، اور انسانیت آہستہ آہستہ اس حقیقی معاشی نظام کی جانب لوٹ رہی ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق خالق ِ کائنات نے تخلیق کیا ہے۔ سونا اس تبدیلی کی خاموش گھنٹی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب ایسی گھنٹیاں بجتی ہیں تو ظلم پر قائم نظام رخصت ہوتے ہیں اور انصاف پر مبنی نئے نظام رائج ہوجاتے ہیں۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ جاتا ہے رہا ہے کے لیے رہی ہے کہ سود

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی