Jasarat News:
2026-07-24@01:00:35 GMT

مہنگا سونا یعنی ڈوبتے سودی نظام کی نوید

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ عجب اتفاق نہیں کہ جس دور میں دنیا خود کو ٹیکنالوجی، ترقی اور خوشحالی کے بلند ترین مقام پر کھڑا سمجھ رہی تھی، اسی دور میں ایک خاموش سی خبر بار بار سرخیوں میں آنے لگی کہ سونا تیزی کے ساتھ مہنگا ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ خبر زیورات، شادیوں اور عام آدمی کی قوتِ خرید سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ محض بازار کی نہیں بلکہ تاریخ کے بدلتے ہوئے رُخ کی خبر ہے۔ دراصل مہنگا ہوتا ہوا سونا انسانیت کو خبردار کر رہا ہے کہ جس سودی اور ظالمانہ نظام پر معیشت، ریاست اور مستقبل کی عمارت کھڑی کی گئی تھی، وہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے، اور سرمایہ دارانہ نظام کے ستون اب اپنے ہی بوجھ سے لرزنے لگے ہیں۔ سونے کی بڑھتی قیمت عام آدمی کے لیے بظاہر تشویش کا باعث ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ ہر دور میں کسی بڑے معاشی موڑ کی تمہید رہی ہے۔ جب کاغذی پیسہ بے وزن ہونے لگتا ہے، جب وعدوں اور قرضوں پر کھڑی معیشت اعتماد کھو بیٹھتی ہے، جب سود انسان اور ریاست دونوں کی گردن میں غلامی کا طوق بن جائے، تب انسان فطری طور پر اس شے کی طرف لوٹتا ہے جو طاقت، سیاست اور جبر سے آزاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا ڈالر، بانڈز اور عالمی مالیاتی اداروں کے وعدوں سے ہٹ کر سونے کی طرف دیکھ رہی ہے۔

اس عالمی بحران کی جڑ سودی نظام ہے، ایسا نظام جو بظاہر ترقی اور سرمایہ کاری کا نام لے کر آیا مگر درحقیقت سماج کے اندر ظلم کی جڑیں مضبوط کرتا چلا گیا۔ قرآنِ مجید نے سود کے بارے میں جو سخت ترین الفاظ استعمال کیے ہیں وہ کسی اور معاشی برائی کے لیے نہیں ملتے۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ جو لوگ سود سے باز نہیں آتے وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ محض ایک مذہبی تنبیہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک واضح معاشی انتباہ ہے کہ سود ایسا ظالمانہ نظام ہے جو بربادی، نفرت اور تباہی کو جنم دیتا ہے۔ قرآن نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دے کر واضح کر دیا کہ محنت، رسک اور پیداوار پر مبنی کمائی فطری اور عادلانہ ہے، جبکہ بغیر محنت دوسروں کے خون پسینے سے منافع کمانا سراسر ظلم ہے۔ رسول اکرمؐ نے سود لینے والے، دینے والے، اس کا حساب لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی تاکہ یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ سود محض فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی جرم ہے۔

سود کے نتیجے میں دولت چند ہاتھوں میں قید ہو جاتی ہے، غریب مقروض در مقروض ہوتا چلا جاتا ہے، ریاستیں سودی قسطیں ادا کرنے کے لیے تعلیم، صحت اور فلاح پر سمجھوتا کرتی ہیں، خاندانی نظام دباؤ کا شکار ہوتا ہے اور معاشرہ طبقاتی تصادم کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہی وہ منظر ہے جو آج عالمی سطح پر نمایاں ہے اور اسی لیے انسان کسی پائیدار اور منصفانہ متبادل کی تلاش میں ہے۔ اسی حقیقت کی نشاندہی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی تحریروں میں نہایت وضاحت سے کی۔ ان کے نزدیک سود محض ناجائز منافع نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی ظلم ہے جو سماج کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سودی نظام میں سرمایہ خطرے سے آزاد ہو جاتا ہے جبکہ محنت، تجارت اور پیداوار کا سارا بوجھ کمزور طبقے پر آ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ سید مودودیؒ کے نزدیک اسلامی معیشت کی بنیاد شراکت، عدل اور ذمے داری پر ہے، جہاں نفع بھی مشترک ہو اور نقصان بھی، اور جہاں دولت چند خزانوں میں قید ہونے کے بجائے پورے معاشرے میں گردش کرے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس مغربی دنیا نے سودی سرمایہ داری کو عروج تک پہنچایا، وہی دنیا آج خاموشی سے اس کے متبادل کی تیاری بھی کر چکی ہے۔ برطانیہ، یورپ اور امریکا میں اسلامی بینکاری اور سود سے پاک مالیاتی مصنوعات کا دائرہ پھیل رہا ہے۔ مغربی بینک اسلامی ونڈوز کھول رہے ہیں، حکومتیں شراکتی فنانس کے ماڈلز کو قانونی تحفظ دے رہی ہیں، مگر اس حقیقت کا علانیہ اعتراف نہیں کیا جا رہا کہ سودی نظام پائیدار نہیں رہا۔ عملی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ متبادل کی ضرورت کو وہ خود بھی محسوس کر چکے ہیں۔ اسلامی معاشی نظام کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ دولت کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھتا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، وراثت اور شراکتی تجارت کے اصول دولت کے بہاؤ کو نچلی سطح تک پہنچاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سلطنت ِ عثمانیہ جیسے ادوار میں سود سے پاک معیشت نے سماجی استحکام پیدا کیا، جہاں غریب ریاست پر بوجھ نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری تھا اور دولت کی گردش نے طبقاتی خلیج کو جنم نہیں لینے دیا۔

آج جب دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور ڈالر کی گرفت کمزور ہو رہی ہے، تو سونے کا مہنگا ہونا محض پریشانی نہیں بلکہ ایک خوشخبری ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانوں کا بنایا ہوا ظالمانہ اور ناپاک سودی نظام اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، اور انسانیت آہستہ آہستہ اس حقیقی معاشی نظام کی جانب لوٹ رہی ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق خالق ِ کائنات نے تخلیق کیا ہے۔ سونا اس تبدیلی کی خاموش گھنٹی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب ایسی گھنٹیاں بجتی ہیں تو ظلم پر قائم نظام رخصت ہوتے ہیں اور انصاف پر مبنی نئے نظام رائج ہوجاتے ہیں۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ جاتا ہے رہا ہے کے لیے رہی ہے کہ سود

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی